14 نومبر 2018
تازہ ترین
 ٹرمپ ایرانی عوام میں تفریق ڈالنا چاہتے ہیں،ایرانی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ٹیلی ویږن پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے نئے ایٹمی مذاکرات کی بات کرنا اور ساتھ ہی دوبارہ پابندیاں عائد کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ ایرانی قوم کے خلاف نفسیاتی جنگ کرنا چاہتے ہیں اور عوام میں تفریق ڈالنا چاہتے ہیں۔مذاکرات کے ساتھ پابندیاں سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ ایران کے بچوں، مریضوں اور عوام پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔صدر روحانی نے نے کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کے حق میں رہا ہے لیکن واشنگٹن کو پہلے یہ ثات کرنا ہو گا کہ اس پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔اگر آپ دشمن ہیں اور دوسرے پر چھرے سے وار کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اس چھرے کو ہٹانا ہو گا۔ وہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ واپس ایٹمی معاہدے میں شامل ہو کر۔امریکا ایران پر پابندیاں عائد کرتا ہے اور 2015 کے ایٹمی معاہدے سے نکل جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے براہ راست بات چیت کی دعوت انتخابات سے قبل امریکی عوام کے لیے ہے یا وہ ایران میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ نیا ایٹمی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر رہا ہے۔ایران پر امریکی پابندیاں کا پہلا مرحلہ پیر کی رات سے نافذ ہو گیا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟