22 مارچ 2019
تازہ ترین
ویدر ایپلی کیشنز کا ڈیٹا چوری کا انکشاف

موبائل کی تمام سروسز اور ایپلی کیشنز استعمال کرنے کیلئے لوکیشن تک رسائی کی اجازت دینا پڑتی ہے۔ بہت سی موبائل ایپلی کیشنز مفت میں اپنی سروسز فراہم کرنے کے بدلے صارفین  کی لوکیشن کا ڈیٹا خفیہ طور پر سب سے زیادہ پیسے دینے والوں کو فروخت کرتی ہیں۔ رواں ہفتے سٹی آف لاس اینجلس نے دی ویدر چینل پر مبینہ طور پر صارفین کے ڈیٹا کے غیر مناسب استعمال پر مقدمہ کیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دی ویدر چینل نے صارفین کے ڈیٹا کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسے آئی بی ایم سے ملحق اداروں اور تھرڈ پارٹیز کو تجارتی سرگرمیوں اور تشہیر کیلئے فروخت کیا ۔ دی ویدر چینل پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ڈیٹا کو ایسے استعمال کیلئے فروخت کیا ، جو موسم یا ایپلی کیشن کی سروسز سے متعلق ہی نہیں تھا۔ دی ویدر چینل وہ پہلی ویدر ایپلی کیشن نہیں جو صارفین کا ڈیٹا فروخت کرتی ہو۔ ویدر بگ ایک اور مقبول ویدر ایپلی کیشن ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اس ایپلی کیشن کو صارفین کی لوکیشن کا ڈیٹا مشکوک تھرڈ پارٹیز کو بھیجتے پکڑا تھا۔ 2017 میں ایکو ویدر پر بھی یہی الزام لگے تھے کہ وہ اشتہار بازی کیلئے صآرفین کا ڈیٹا فروخت کرتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہی ویدر فار کاسٹ نامی ایپلی کیشن کو گوگل پلے سٹور سے اسی وجہ سے ہٹا دیا گیا۔ یہ ایپلی کیشن صارفین کی لوکیشن کا ڈیٹا، فون کے آئی ایم ای آئی نمبر اور ای میل ایڈریسز جمع کرتی تھی۔ اس ایپلی کیشن نے صارفین کو پوشیدہ طور پر دو ورچوئل رئیلٹی پلیٹ فارمز پر فری ویدر ایپ یوزر سے پیڈ سبسکرائبر میں بدل دیا تھا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟