ومبلڈن اوپن،اینڈرسن کی فائنل تک رسائی

کیون اینڈرسن ستانوے سال بعد ومبلڈن کا فائنل کھیلنے والے پہلے جنوبی افریقی کھلاڑی بن گئے ہیں۔ بتیس سالہ اینڈرسن نے لندن میں جاری سال کے تیسرے اور سب سے بڑے گرینڈ سلیم اوپن کے پہلی سیمی فائنل میں کانٹے دار مقابلے کے بعد جان سنر کو شکست دے کر فائنل کے لئے کوالیفائی کر لیا ۔ سیمی فائنل کے پہلے سیٹ میں کیون اینڈرسن نے ٹائی بریک پر سخت مقابلے کے بعد 6-7 سے کامیابی سمیٹی۔ دوسرے سیٹ میں جان سنر نے شاندار انداز میں کم بیک کیا اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد ٹائی بریک پر 7-6 سے جیت کر مقابلہ 1-1 سیٹ سے برابر کر دیا۔ تیسرے سیٹ میں کیون اینڈرسن نے ایک اور ٹائی بریک پر 7-6 سے کامیابی حاصل کر کے میچ میں پہلی مرتبہ برتری حاصل کر لی۔ چوتھے سیٹ میں کیون اینڈرسن 6-4 سے سیٹ جیت کر مقابلہ 2-2 سیٹ سے برابر کر دیا۔ میچ کے آخری سیٹ میں دونوں کھلاڑیوں نے فتح کے لئے اپنا بہترین کھیل پیش کیا اور کوئی بھی کھلاڑی ہار ماننے کو تیار نہ ہوا اور یوں یہ سیٹ تقریبا تین گھنٹے تک محیط ہو گیا۔ میچ کا آخری سیٹ شروع ہوا تو پہلے ہی ساڑھے تین گھنٹے سے زائد کا کھیل ہو چکا تھا اور شاندار مقابلے سے بھرپور اس میچ میں کیون اینڈرسن نے 24-26 سے فتح حاصل کی تو یہ ومبلڈن کی تاریخ کا دوسرا طویل ترین میچ بن گیا تھا۔ ایونٹ کا یہ پہلا سیمی فائنل مجموعی طور پر چھ گھنٹے 36 منٹ تک جاری رہا اور اس کے ساتھ ہی ومبلڈن کا دوسرا طویل ترین میچ بن گیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟