20 نومبر 2018
وزیرستان کے بے گھر طالب علم کا 87’ ککس‘ لگانے کا عالمی ریکارڈ

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں گذشتہ تقریباً ایک دہائی سے نامساد حالات کے باعث اگر ایک طرف ہزاروں قبائلی طلبہ کے بے گھر ہونے کی وجہ سے ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا تو دوسری طرف مشکلات میں گھیرے بعض طالب علموں نے ان مسائل کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ اپنے علاقے سے بے دخلی ان کے لیے ایک قسم کی خوش قسمتی ثابت ہوئی۔

شدت پسندوں کے ہاتھوں کئی سالوں تک یرغمال رہنے والے سینکڑوں قبائلی طالب علموں نے بے گھر ہونے کے بعد ملک کے مختلف شہروں کا رخ کرکے وہاں اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا اور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوایا۔

عالمی ریکارڈ، عرفان محسود

Image captionعرفان محسود نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر گھٹنے سے ایک منٹ میں 87 ککس لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا

ان میں جنوبی وزیرستان سے تقریباً سات سال قبل نقل مکانی کرنے والے ایک طالب محمد عرفان محسود قابل ذکر ہیں جس نے حال ہی میں مارشل آرٹ کے شعبے میں عالمی ریکارڈ قائم کرکے ان کا نام گینزبک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

عرفان محسود نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہوکر گھٹنے سے ایک منٹ میں 87 ککس لگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

گنز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اس سلسلے میں ایک اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس میں عرفان محسود کو عالمی اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔

یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ دوسرے پاکستانی ہیں اس سے پہلے یہ اعزاز پاکستان ہی کے ایک نوجوان احمد امین بودلہ کو حاصل تھا جس نے ایک منٹ میں 79 کیک لگاکر یہ منفرد ریکارڈ قائم کیا تھا تاہم عرفان محسود نے اب یہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

عرفان محسود نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2009 میں جب جنوبی وزیرستان میں ’آپریشن راہ نجات‘ شروع ہوا تو انھیں خاندان سمیت گھر بار چھوڑ کر ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہونا پڑا۔

عرفان ورلڈ ریکارڈ

Image captionعرفان محسود کے مطابق انھوں نے چھ اور ریکارڈز بھی گنز بک کو بھیجے ہوئے ہیں جس پر آئندہ چند دنوں میں فیصلہ متوقع ہے

انھوں نے بتایا 'مجھے بچپن سے مارشل آرٹ سے جنون کی حد تک شوق تھا لہذا میں نے باوجود مشکلات کے حوصلہ نہیں ہارا اور ڈیرہ اسماعیل خان آکر میں نے یہاں ایک چھوٹی سی اکیڈیمی بنائی جس میں زیادہ تر کھلاڑی بھی جنوبی وزیرستان کی متاثرین ہی کی ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ دو تین سالوں سے عالمی اعزاز حاصل کرنے کےلیے کوششیں کررہے تھے اور بالاآخر ان کی محنت رنگ لے ہی آئی۔

وہ بتاتے ہیں: 'گنز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو اپنے تمام تر ریکارڈ بھیجنے کے دو طریقے ہیں ایک تو ان کے نمائندے کو بلا کر ان کے سامنے عملی مظاہرہ کیا جائے جس پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ آپ انھیں اپنی تمام وڈیوز بھیجیں اور وہ ان پر کوئی فیصلہ کرے جس پر رقم زیادہ خرچ نہیں ہوتی لیکن وقت زیادہ لگتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ گنز بک آف ورلڈ ریکارڈز کی طرف سے کھیل کے قواعد و ضوابط بہت سخت بنائے گئے ہیں جس میں معمولی سی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

'میں نے ٹانگ سے ایک منٹ میں ایک خاص زوائے اور فاصلے سے بیلٹ کو مسلسل ایک منٹ میں 87 کک مارکر یہ اعزاز حاصل کیا ہے جو کہ ایک بہت مشکل مرحلہ تھا۔ '

عرفان ورلڈ ریکارڈ

Image captionعرفان اس سے قبل کنگ فو میں نیشنل چمپئین بھی رہ چکے ہیں

عرفان محسود کے مطابق انھوں نے چھ اور ریکارڈز بھی گنز بک کو بھیجے ہوئے ہیں جس پر آئندہ چند دنوں میں فیصلہ متوقع ہے۔

ان کے بقول ابھی تک کسی حکومتی اہلکار کی طرف سے ان سے کوئی رابط نہیں کیا گیا ہے اور نہ کسی نے ان کو مبارکباد کےلیے فون کیا ہے۔

خیال رہے کہ مارشل آرٹ کے ماہر محمد عرفان محسود نے فائن آرٹس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے اور آج کل وہ ایم فل کے سکالر ہیں۔

اس سے پہلے وہ کنگ فو میں نیشنل چمپئین بھی رہ چکے ہیں جبکہ اس کے علاوہ انھوں نے کئی دیگر اعزازات بھی حاصل کیے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟