20 ستمبر 2019
تازہ ترین
  وزیراعظم کو  صدر والا استثنیٰ  نہیں ، عدالت

  وزیراعظم کو  صدر والا استثنیٰ  نہیں ، عدالت

عدالت کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی باہر ہونے والی کارروائی آئین کے آرٹیکل66کے زمرے میں نہیں آتی جو پارلیمان میں ہونے والی کارروائی کو قانونی تحفظ دینے سے متعلق ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پانامہ لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی تو وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا عدالت کے سامنے وزیراعظم کا معاملہ نہیں بلکہ ایک رکن پارلیمان کو نا اہل قرار دینے کا معاملہ ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میاں نواز شریف کے وکیل سے استفسار کیا کہ گزشتہ سماعت کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ پارلیمان میں ہونے والی کارروائی کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا، عدالت یہ قرار دے چکی ہے کہ پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو ارکان پارلیمنٹ کے خلاف بطور شہادت بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ برطانوی عدالت بھی اپنے ایک فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ کرپشن کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے میاں نواز شریف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 66 کے تحت پارلیمان میں ہونے والی کارروائی کا استثنیٰ صرف وزیر اعظم کا ہی نہیں بلکہ پورے پارلیمنٹرینز کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا  عدالت کے سامنے وزیر اعظم کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ قوم سے کیے گئے خطاب کا بھی سوال ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ دنیا بھر میں ارکان پارلیمان آپس میں جھگڑتے ہیں تو کیا ان معاملات کو عدالت میں لایا جاسکتا ہے یا پھر ایسی کارروائیوں پر انہیں بھی استثنیٰ حاصل ہے۔  ایسے عدالتی حوالے موجود ہیں جن کے تحت عدالت پارلیمان میں ہونے والی کارروائی کا جائزہ لے سکتی ہے۔ بینچ کے سربراہ نے کہا  پارلیمنٹ قانون بناتی ہے اور عدالت اس کی تشریح کرتی ہے اور اگر تشریح کی غرض سے وزیر اعظم کی تقریر کا جائزہ لے تو اس کی خلاف ورزی تو نہیں ہوگی۔ اس پر وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی تقریر یا ان کے بچوں کے بیانات میں بھی تضاد ہو تو پھر بھی قانون کے تحت وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آئین کے آرٹیکل 19کے تحت ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ وہ اظہار رائے کی آزادی نہیں بلکہ استثنیٰ مانگ رہے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا  وزیر اعظم نے آرٹیکل 248کے تحت استثنیٰ نہیں مانگا ، انہوں نے صرف آئین کے آرٹیکل 248کا حوالہ دیا ہے ۔ آرٹیکل چھیاسٹھ کے تحت پارلیمنٹ کا معاملہ عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جاسکتا ، آئین صدر اور گورنرز کو مکمل استثنیٰ فراہم کرتا ہے لیکن یہ لامحدود نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو امور مملکت میں استثنیٰ حاصل ہوتا ہے ، پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کو عدالت میں نہیں لایا جاسکتا ، جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ یہاں سوال مختلف ہے ، پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوئی ، وزیر اعظم نے کرپشن کے الزامات کا جواب دیا ۔ سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کو عدالت میں نہیں لایا جاسکتا ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا وہ پانامہ کیس میں آپ آرٹیکل 66کا استحقاق مانگ رہے ہیں ، دو سو اڑتالیس کا استثنیٰ نہیں ۔ وکیل نے کہا وہ آرٹیکل چھیاسٹھ کی بات اس لیے کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم نے تقریر ایوان میں کی، جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ارکان پارلیمنٹ کے استحقاق کے معاملے پر پوری دنیا کے مقدمات کا حوالہ دینا ضروری نہیں ، یہاں سوال مختلف ہے کیونکہ پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوئی وزیر اعظم نے کرپشن کے الزامات کا جواب دیا ، لہٰذا اس معاملے کو نظر میں رکھیں گے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سزا دینا چاہتے ہیں۔  جسٹس عظمت سعید  نے ریمارکس دیئے  تقریر اور دستاویزات کے موقف میں تضاد ہے۔  مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا  بھارت میں سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہوتی، وہاں ججز کو ہٹانے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ججز کے ہٹانے کا اختیار دینا غیر محفوظ ہو گا، بھارت میں بحث جاری ہے کہ ججز کے احتساب کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل بنائی جائے۔  جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ  ایسے عدالتی حوالے موجود ہیں جس کے تحت عدالت پارلیمانی کاروائی کا جائزہ لے سکتی ہے۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ تقریر کو بطور شہادت پیش نہیں کیا جا سکتا، تقریر کو بطور شہادت پیش نہ کرنے کے عدالتی فیصلوں کے حوالے موجود ہیں۔  مخدوم علی خان نے کہا کہ دونوں تقریر پر تضاد ہے لیکن اگر اسمبلی کی تقریر پر آرٹیکل 66کا اطلاق ہوگا تو تضاد ختم ہوجائے گا۔ وکیل نے کہا اس تقریر میں کوئی ایسی بات نہیں جس کی بنیاد پر وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جاسکے، وزیر اعظم کی تقریر یا ان کے بچے کی بیان میں اگر کوئی تضاد ہے تو بھی وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت نے مزید سماعت آج تک کے لئے ملتوی کر دی۔ اسلام آباد سے کورٹ رپورٹر کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کا کیس آئین کی جانب سے دی گئی اظہار رائے کی آزادی کا نہیں ہے، حسین نواز نے انٹرویو میں کہا  تھا جدہ میں انہوں نے فیکٹری لگائی ، جدہ فیکٹری کی ملکیت پر باپ اور بیٹے نے الگ الگ موقف اختیار کیا ہے ،  مخدوم علی خان صاحب کیا بچے سچ بول رہے ہیں یا ان کے والد؟ جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر یا ان کے بچوں کے بیانات میں بھی تضاد ہو تو پھر بھی قانون کے تحت وزیر اعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بیٹے یا باپ میں سے کسی ایک کا سچ ثابت کرنا ہو تو وزیر اعظم کو فارغ نہیں کیا جا سکتا ہے۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟