25 ستمبر 2018
تازہ ترین
 وائی فائی سگنلز کا بطور سیکیورٹی ٹول استعمال

سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ خفیہ خانوں میں چھپائے گئے آتشیں مواد، اسلحے اور بموں کو وائی فائی سگنلز کے ذریعے بہ آسانی ڈھونڈا جاسکتا ہے اور اس میں لاگت بھی کم آتی ہے۔ کینیڈا کی رٹگرز یونیورسٹی آف نیو برونس وک کے انجینئروں نے سائبر سیکیورٹی کے موضوع پر منعقدہ، مواصلات اور نیٹ ورک پر ہونے والی کانفرنس IEEE 2018 میں ایک تحقیق پیش کی جس میں وائی فائی کے ذریعے سفری سوٹ کیس اور ڈبوں میں خفیہ طور پر چھپائے گئے آتشیں مواد کو پکڑنے کا نظام متعارف کرایا گیا تھا۔ اس تحقیق کو عالمی کانفرنس میں بہترین تحقیقی مقالے کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ انجینئروں نے اپنے تحقیقی مقالے میں بتایا کہ خطرناک مواد زیادہ تر دھات اور مائع پر مشتمل ہوتے ہیں اور ایسے مواد کو خاص طور پر تیار کئے گئے کاغذوں اور فائبر کے خانوں میں چھپایا جاتا ہے، تاکہ ممنوعہ مواد بہ آسانی منتقل کیا جا سکے۔ وائی فائی کی لہریں ان دھاتوں سے بہ آسانی گزر جاتی ہیں۔ اسی اصول پر کام کرتے ہوئے اس پروجیکٹ کو مکمل کیا۔ سائنس دانوں نے اس پروجیکٹ کو وائی فائی ویپن ڈٹیکشن سسٹم کا نام دیا، جسے 15 سے زائد دھاتوں اور مادوں پر استعمال کیا گیا۔ اس نظام نے بیگز میں چھپے خطرناک مواد کا 99 فیصد درستی کے ساتھ پتا لگایا۔ اس سسٹم کو ہوائی اڈوں کے امیگریشن کائونٹرز پر نصب کیا جا سکے گا ، جس سے کم افرادی قوت اور سی سی ٹی وی کیمروں کے بغیر ہی آتشیں مواد کو پکڑا جا سکے گا۔ تحقیقی مقالے کو پذیرائی ملنے کے بعد رٹگرز یونیورسٹی کے انجینئروں نے وائی فائی کے ذریعے اسلحہ اور آتشیں مواد کھوجنے والے نظام کی استعداد بڑھانے پر کام  آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ جلد ہی کچھ مزید جدید اور ضروری ترامیم کے بعد یہ ٹیکنالوجی استفادہ عام کیلئے دستیاب ہو گی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟