22 اکتوبر 2019
تازہ ترین
نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہورہا ، خورشید شاہ

نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہورہا ، خورشید شاہ

اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ناکا م خارجہ پالیسی کے باعث پاکستان دوسرے ملکوں کی نسبت پیچھے ہے، پنجاب میں دہشت گردوں کی نرسریاں ہیں ،وزارت داخلہ کالعدم تنظیموں کی وکالت کرے گی تو پھر ملک میں  شہبازقلندر جیسے واقعات تو ہوں گے ،نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہورہا،اس بات کا اعتراف سابق آرمی چیف راحیل شریف بھی کرچکے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان پہلے ملکوں کے لئے رول ماڈل ہوتا تھا لیکن اب وہ ملک ہم سے آگے نکل گئے اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے مسئلے پر صرف وزارت داخلہ کو نہیں بلکہ وزارت خارجہ پر بھی تنقید ہونی چاہیے آخر دوسرے ملک پاکستان پر تحفظات کا اظہار کیوں کرتے ہیں ؟ اس کی وجہ جاننے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کے ہمسایہ ملک کو پاکستان کی ترقی اچھی نہیں لگتی کیو نکہ انہیں پتہ ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھ گئی تو دنیا کی توجہ پاکستان پر مرکوز ہو جائے گی لیکن وزارت خارجہ کو یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونا ملک کی بہت بڑی بدقسمتی ہے ، سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل ٟرٞراحیل شریف نے اعتراف کیا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل کام نہیں ہورہا ، پنجاب میں آج دہشت گردوں کی آماجگاہیں ہیں اور وزارت داخلہ ان آماجگاہوں کی وکالت کررہی ہے جس سے حالات مزید سنگین بنتے جارہے ہیں اگر وزارت داخلہ  اگر کالعدم تنظیموں کی وکالت کرے گی تو ایسے حملے تو ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ آج سندھ میں رینجرز آپریشن کررہی ہے لیکن اگر رینجرز کے اختیارات میں دو دن توسیع کا معاملہ تاخیر کا شکار ہوتا ہے تو پورا میڈیا معاملے کو ہیڈ لائن بنا کر قوم کے سامنے پیش کرتا ہے مگر پنجاب میں دہشت گردوں کی آماجگاہوں پر میڈیا کو بات کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ نے کہاکہ ملک میں ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں جس سے پیپلزپارٹی کو انتخابات میں ٹف ٹائم فراہم کیا جاسکے ۔ 


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟