23 مئی 2019
تازہ ترین
 نیا پاکستان سماجی اور معاشی مواقع سے بھرپور ہے، وزیراعظم

نیا پاکستان سماجی اور معاشی مواقع سے بھرپور ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نیا پاکستان ایک پرامن اور ابھرتے ہوئے سماجی اور معاشی مواقع سے بھرپور پاکستان ہے۔وزیر اعظم عمران خان سے اسلام آباد سمٹ میں شرکت کرنے والے 25 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 60  سے زائد مندوبین نے وزیر اعظم آ فس میں ملاقات کی، ملاقات میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، چیئرمین بورڈ آف انویسٹمینٹ ہارون شریف، معاونین خصوصی نعیم الحق اور افتخار درانی بھی شامل تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کا پاکستان یکسر تبدیل ہو چکا ہے، نیا پاکستان پرُامن، ابھرتے سماجی ومعاشی مواقع  سے بھرپور ہے، یہ حکومت کی سرمایہ کاردوست پالیسیوں اورسہولیات میں بہتری کا مظہر ہے کہ معروف بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے منافع بخش کاروبارکےمواقع پر یقین رکھتی ہے، اسلام آباد سمٹ کا انعقاد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے پاکستان پراعتماد کا مظہرہے، کاروباری سرگرمیوں سے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے، اور کاروباری برادری کے منافع بنانے سے کاروباری عمل میں تیزی آئے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، روک تھام یقینی بنائیں گے، متعلقہ ادارے اقدامات تیز کر دیں۔وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی، ندیم افضل چن، افتخار درانی اور یوسف بیگ مرزا نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایف آئی اے، ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور نادرا حکام نے وزیراعظم عمران خان کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔ اس کے علاوہ وزیر قانون فروغ نسیم نے منی لانڈرنگ قوانین میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر منی لانڈرنگ روکنے کے لیے اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منی لانڈرنگ نے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، منی لانڈرنگ روکنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنے درمیان روابط بہتر بنائیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟