نہ کسی سے ڈکٹیشن لی نہ لوں گا،چیئرمین نیب

چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نیب انکوائریاں اور تحقیقات قانون کے مطابق مقررہ وقت میں مکمل ہوں گی جب کہ نہ کسی سے ڈکٹیشن لی نہ اب لوں گا، شیشے کی عمارت میں بیٹھنے سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو گا، بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانا ہو گی، عدالتوں میں دائر ریفرنسز کی مؤثر پیروی کی جائے گی۔ نیب افسران سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین نیب جسٹس رجاوید اقبال نے کہا کہ ساری زندگی قانون اور انصاف کے مطابق فیصلے کیے، نہ کسی سے ڈکٹیشن لی نہ اب لوں گا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کا مؤقف قانون اور شواہد کے ساتھ عدالتوں میں پیش کیا جائےگا، عدالتوں میں نیب مقدمات کی مؤثر پیروی کی جائے گی، انکوائریاں اورتحقیقات قانون کے مطابق مقررہ وقت میں مکمل ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب کی ساکھ بحال کرنے کے لیےٴٴ احتساب سب کاٴٴکے اصول پر عمل کیا جائے گا، بدعنوانی کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائیں گے، بدعنوانی کے خاتمے کے لیے افسران کو ایمانداری، شفافیت اور میرٹ سے کام کرنا ہوگا۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ آنے والے مہینوں میں نیب کی کارکردگی میں واضح تبدیلی نظر آئے گی، افسران کی کارکردگی ذاتی طورپر مانیٹر کروں گا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ کسی شخص یا ادارے کے خلاف درخواست آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جب کہ کسی بے گناہ کے خلاف کارروائی سے گریز کیا جائے۔