25 اپریل 2018
تازہ ترین
نواز  ، مریم  اور دیگر کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پرعبوری پابندی

لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف اور مریم نواز سمیت دیگر 16 لیگی رہنمائوں کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی عائد کردی۔ لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر 16 لیگی رہنمائوں کے خلاف توہین عدالت کی 2 درجن سے زائد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ درخواستوں میں موقف اپنایا گیا تھا کہ مذکورہ شخصیات پاناما کیس سمیت دیگر کیسز میں عدلیہ مخالف تقاریر کر رہی ہیں اور براہ راست ججوں کو نشانہ بنارہے ہیں، یہ تقاریر براہ راست نشر کی جارہی ہے جو توہین عدالت ہے۔ درخواست گزاروں نے ان تقاریر کی بنیاد پر نوازشریف سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی تھی جب کہ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ پیمرا کو کوڈ آف کنڈکٹ یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی پر مشتمل تین رکنی فل بینچ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا جس میں پیمرا کو 15 روز میں ان درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ پیمرا 15 دن میں خود فیصلہ کرے کہ ان تقاریر کو نشر کیا جانا چاہئے یا نہیں، جب کہ اس امر کو بھی یقینی بنائیں کہ 15 دن کے دوران توہین عدالت پر مبنی کوئی موا د ٹی وی وی چینلز پر نشر نہ ہو۔ عدالت نے پیمرا کو 15 روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم  دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں نوازشریف، مریم نواز اور دیگر کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی بھی عائد کردی۔


عوامی سروے

سوال: آپ کے خیال میں پاکستان کا اگلا وزیراعظم کون ہونا چاہیے؟