09 اپریل 2020
تازہ ترین
  نواز شریف نے استثنٰی نہیں استحقاق مانگا، سپریم کورٹ

 نواز شریف نے استثنٰی نہیں استحقاق مانگا، سپریم کورٹ

، دوران سماعت عدالت نے توفیق آصف سے سوال کیا ہے کہ کیا ایسا کوئی  ضابطہ اخلاق ہے جس کے تحت وزیراعظم کاروبار نہیں کرسکتے  ؟تو انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی پابندی نہیں ہے،جس پرجسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئیے آپ  مفروضوں پر ہمیں کہاں گھسیٹ کر لے جارہے ہیں ؟مفادات کے ٹکرائو کا کوئی موادیا شواہد ہمارے سامنے نہیںہیں ،آپ نے عدالت کے سامنے غلط بیانی کی ہے،اب خود ہی بتائیں کہ آپ پر آئین کا آرٹیکل 62 یا 63،لگایا جائے ،جسٹس گلزار احمد نے توفیق آصف کو تنبیہ کی کہ آپ کو اس کیس کو اتنی غیر سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے تھا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کے موکل سراج الحق انتہائی قابل احترام ہیں اور ہم وکیل کی غلطی کو موکل پر نہیں ڈالنا چاہتے ، لندن کے فلیٹس کی خریداری کی حد تک اعتراف ضرور ہے،مگر یہ نہیں ہے کہ جائیداد نواز شریف نے خریدی ہے، وزیراعظم نے لندن فلیٹس خریدنے کی بات کی ہے، ملکیت تسلیم نہیں کی ، سوال یہ ہے کہ فلیٹس کب خریدے گئے تھے؟ کیا یہ فلیٹس کسی سیٹلمنٹ میں تو نہیں ملے تھے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نواز شریف نے آئین کے آرٹیکل 66 کے تحت استثنیٰ نہیں بلکہ استحقاق مانگا ہے، ؟ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان ،جسٹس گلزار احمد،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5رکنی لارجر بنچ نے جمعہ کے روز کیس کی سماعت کی تو درخواست گزار جماعت اسلامی کے وکیل ،توفیق آصف نے  دلائل کا آغاز کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف نے اپنے لندن اثاثے چھپائے ہیں اس لئے وہ نااہل ہو گئے ہیں،جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آپ کا الزام یہ ھے کہ انہوں نے جان بوجھ کر لندن کے اثاثے چھپائے ہیں؟توفیق آصف جی ہاں اس کے بعد اب وہ صادق اور امین نہیں رھے ہیں ، وزیر اعظم کی تقریر بطور شواہد استعمال ھو سکتی ھے، عدالت کو ڈیکلریشن دینے کا اختیار ھے،  انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کاغذات نامزدگی اور ٹیکس گوشواروں میں لندن اثاثوں کا ذکر نہیں کیا  ،کیا نواز شریف کی قومی اسمبلی میں تقریر قانون شہادت کے زمرے  میں نہیں آتی  ؟جس پرجسٹس کھوسہ نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو 184/3 کے مقدمے میں بھی ڈیکلریشن دینے کا اختیار ھے؟ تو فاضل وکیل نے کہا کہ جی ہاںسپریم کورٹ 184/3کے تحت ڈیکلریشن دے سکتی ھے، کیونکہ نواز شریف نے لندن فلیٹس کی ملکیت سے انکار نہیں کیا  ، انہوںنے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے کہ فائنڈنگ قلمبند کر کے ڈیکلیریشن جاری کرے، انہوںنے بطور ایم این اے اور بطور وزیراعظم جو حلف اٹھائے ہیں انکی پاسداری نہیں کی  ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ وزیر اعظم نے حلف کی پاسداری نہیں کی ہے اس لیے انہیں عوامی عہدہ کے لئے  نااہل قرار دیا جائے، جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے بھی وزیر اعظم کی تقریر میں تضاد پر دلائل دیے تھے، وزیر اعظم کی تقریر اعتراف جرم ہے، 1980 میںاتفاق فائونڈری خسارے میں تھی، وزیر اعظم کے بیان کے مطابق اتفاق فائونڈری تین سال میں خسارہ ختم کرکے 60 کروڑ منافع میں چلی گئی تھی،  1985  میں اتفاق فائونڈری کا دائرہ کئی کمپنیوں تک پہنچ گیا،دبئی میں گلف سٹیل مل قائم کی گئی جو 9 ملین ڈالرز میں فروخت ہوئی،یہ نہیں بتایا گیا کہ کارروبار کے لئے اتنی رقم کہاں سے آئی تھی؟ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کو درست مان لیا جائے کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے،انہوںنے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ فلیٹس 1993 سے 1996 میں خریدے گئے تھے ،جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ بات کہاں مانی گئی ہے ؟ اگر ایسا ھوتا تو ہم اتنے دنوں سے یہ کیس کیوں سن رھے ہیں؟ توفیق آصف نے کہا کہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ وہ دوبئی فیکٹری کے قیام کے وقت سیاست میں نہیں تھے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے اعتراف کیا ہے، جسے ہم ڈھونڈ رہے ہیں، تقریر کا وہ حصہ  دکھائیں جس میں اعتراف کیا گیا ہے،آپ کہتے ہیں تقریر میں تضاد نہیں بلکہ اعتراف ہے، جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اگر وزیر اعظم ملکیت تسلیم کرتے تو اتنے دن سماعت ہی نہ ہوتی، جسٹس عظمت نے کہا کہ آپ کا کیس پی ٹی آئی  کے کیس سے بہت مختلف ہے، توفیق آصف نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ یہ وہ وسائل ہیں جن سے لندن کے فلیٹس خریدے گئے تھے ،وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہاتھا کہ دوبئی اور جدہ فیکٹری کے حوالے سے تمام ریکارڈ موجود ہے،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کا موقف ہے کہ وزیر اعظم کی تقاریر میں تضاد ہے، جسٹس کھوسہ نے کہا کہ یہاں پر دو سوالات پیدا ہوتے ہیں،اول فلیٹس کب خریدے گئے؟ دوئم ان کا وزیر اعظم سے کیا تعلق ہے؟ فلیٹوں کی خریداری کی حد تک اعتراف ضرور ہے،مگر یہ نہیں ہے کہ جائیداد نواز شریف نے خریدی ہے، کیا یہ فلیٹس کسی سیٹلمنٹ میں تو نہیں ملے تھے ؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لندن فلیٹس کے خریدنے کا ذکر بھی والد کے حوالہ سے ہے، تو فیق آصف نے کہا کہ لندن فلیٹس کا تذکرہ ظفر علی شاہ کیس میں بھی موجود ہے،  جس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نے ان سے استفسار کیا کہ کیاظفر علی شاہ کیس میں نواز شریف فریق تھے؟ تو فاضل وکیل نے کہا کہ وہ ظفر علی شاہ کیس میں فریق اول تھے اور خالد انور ایڈوکیٹ نے اس وقت  ان  کی کیس میں وکالت کی تھی،جس پر عدالت میں بیٹھے وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان روسٹرم پر آگئے اور عدالت کو مخاطب کر کے کہا کہ ظفر علی شاہ کیس میں نواز شریف فریق نہیں تھے، جسٹس آصف کھوسہ نے توفیق آصف کو مخاطب کرتے  ہوئے کہاکہ کیا آپ میری آواز سن پا رہے ہیں؟جناب وکیل صاحب؟جس پر فاضل وکیل نے اپنے دلائل سے ظفر علی شاہ کیس سے متعلق دلائل واپس لے لئے، جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ خداکاخوف کریں لندن فلیٹس سے متعلق ظفر علی شاہ کیس میں کوئی فائنڈنگ نہیں دی گی ہے اورلندن فلیٹس کے حوالہ سے اس وقت کے اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے تھے، جسٹس کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں ان دلائل کوکوئی اہمیت نہیں دی تھی، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ توفیق آصف صاحب خدا کا خوف کریں، جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آپ جو حوالے دے رہے ہیں وہ مقدمہ میں بحث کے دوران وکلا کے دلائل تھے عدالت کا فیصلہ نہیں تھا ، پراپرٹی کی ملکیت اس کیس میں بھی ثابت نہیں ہے،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ جو دلائل دے رہے ہیں وہ ایسے ہی ہیں کہ نعیم بخاری پی ٹی سی ایل کے کسی کیس میں دلائل دیں اور کہیں کہ انہوںنے جو دلائل پانامہ پیپرز لیکس کیس میں دیئے انھیں اس کیس میں بھی شامل کر دیا جائے،انہوںنے کہا کہ دوسری پارٹی کا الزام ہے، لندن فلیٹس کی ملکیت نواز شریف کی ہے اور اس حوالہ سے انہوں نے التوفیق کیس کا حوالہ بھی دیا ہے،آپ عدالت کو نواز شریف کے بیانات میں تضاد بتائیں؟ توفیق آصف نے کہا کہ میں دائرہ اختیار پر دلائل دوں گا، انہوںنے کہا کہ منی ٹریل اور ثبوت دینا شریف خاندان کی ذمہ داری ہے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نواز شریف نے آئین کے آرٹیکل 66 کے تحت استثنیٰ نہیں بلکہ استحقاق مانگا ہے، جسٹس گلزار احمد نے توفیق آصف کو تنبیہ کی کہ آپ کو اس کیس کو اتنی غیر سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے تھا ، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ نے اپنی درخواست میں نواز شریف کے اس مقدمے میں فریق ہونے سے متعلق غلط بیانی کی ہے،اب خود ہی بتائیں کہ آپ پر آئین کا آرٹیکل 62لگائیں یا 63،؟جس پر عدالت میں ایک قہقہ بلند ہوا ، توفیق آصف نے کہا کہ نواز شریف کی اسمبلی میں کی گئی تقریر میں حکومتی پالیسی بیان نہیں بلکہ بطور ایم این اے ذاتی الزامات کا جواب تھا، میں نے اتنی بھی غیر سنجیدہ بات نہیں کی ، میرا زیادہ انحصار وزیرا عظم کی تقریر پر ھے،جس پرجسٹس کھوسہ نے کہا کہ آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ مانگنا اور آرٹیکل 66 کے تحت استحقاق دو الگ الگ چیزیں ہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وزیر اعظم نے استثنیٰ نہیں مانگا  ، توفیق آصف نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر اسمبلی کی معمول کی کارروائی نہیں تھی، انہوںنے اسمبلی میں کوئی پالیسی بیان نہیں دیاتھاجس پراستحقاق بنتا ھو، جسٹس اعجاز الاحسن  نے کہا کہ کیا وزیر عظم کی تقریر ایجنڈے کا حصہ تھی؟ کیاذاتی الزامات کا جواب دینے کے لیے اسمبلی کا فلور استعمال ھوسکتا ھے؟ کیاکوئی ایسا ضابطہ اخلاق ہے جس کے تحت وزیر اعظم عہدہ کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتے ہیں جس پر  توفیق آصف نے کہا کہ ایسی کوئی پابندی نہیں ہے،جسٹس عظمت نے فاضل وکیل سے استفسار کیا کہ آپ مفروضوں پر ہمیں کہاں گھسیٹ کر لے جارھے ہیں؟ مفادات کے ٹکرا ئوکا کوئی موادیا شواہد ہمارے سامنے نہیں آئے ہیں ،فاضل وکیل کے دلائل جاری تھے کہ عدالت کاوقت ختم ہوجانے کی بنائ پر کیس کی مزید سماعت سوموار تک ملتوی کردی گئی ،اگلی سماعت پر بھی توفیق آصف ہی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟