نواز شریف بتاتے ہی نہیں ان کیخلاف کون سازش کررہا ہے،سراج الحق

جو بھی سرکاری عہدوں پرہے وہ صادق اور امین ہوگا،جونہیں ہوگا اس کیلئے اڈیالہ جیل ہوگی،امیر جماعت اسلامی

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے پیپلز پارٹی کے احتساب کی ڈیمانڈ کرتا ہوں،سب کااحتساب ہونا چاہیے، پیپلزپارٹی نے بھی 40سال حکومت کی ہے، آئین کی 63،62 شق سب پر لاگو کریں گے ،کوئی بھی آئین کی 63،62 کی شق ختم نہیں کرسکتا،جو بھی سرکاری عہدوں پرہے وہ صادق اور امین ہوگا، جو صادق امین نہیں ہوگا اس کے لیے اڈیالہ جیل ہوگی،قوم کو لوٹنے والوں کے خلاف عوامی آپریشن ہونا چاہئے۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ نواز شریف بتاتے ہی نہیں کہ ان کے خلاف کون سازش کررہا ہے، آپ ایکشن اور حکومت بھی خود کرتے ہیں اور روتے بھی خود ہیں،آپ کہتے ہیں5 ججوں نے میرے خلاف فیصلہ دیا ہے،آپ کہتے ہیں فیصلہ سی پیک کے خلاف ہے، یہ فیصلہ نہیں بھارت سی پیک کے خلاف ہے، آپکوفیصل مسجدمیں2رکعت نفل اداکرنی چاہیے کہ آپ گھرجارہے ہیں جیل نہیں، اگر آپ کا گلہ نیب سے ہے تو اس کے چیئرمین کی تقرری آپ نے کی ہے،میرے پاس فہرست ہے، ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہونی چاہییں،345 بلین ڈالرسوئس بینکوں میں موجود ہیں، سوئس بینکوں میں موجود پیسا واپس آجائے توتمام مسائل حل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا یہاں مسلم لیگ ن یاپھرپیپلزپارٹی نے حکومت کی ہے، مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی نے کرپشن اور دہشت گردی کا تحفہ دیا ہے، سیاسی جماعتوں کانظام غلامی اور جاگیرداروں کا نظام ہے،2فیصدلوگوں نے 98فیصد لوگوں کویرغمال بنایا ہوا ہے، این اے 120 میں نواز خاندان کسی اور کو ٹکٹ دینے کو تیار نہیں،اگر یہ سیاست ہوتی تو مخلص ورکر کو وہی عہدہ دیتے،بھٹو کی نسلیں بھی سیاست کررہی ہیں، آج قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مباحثے جاری ہیں کہ نظام کو خطرہ ہے، ہم کرپشن کے خاتمے کے لیے لڑ رہے ہیں، عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ جاگیرداری نظام چاہتے ہیں یا اسلامی نظام، ایوانوں میں رہنے والے معاشی دہشتگردوں کیخلاف بھی عوامی آپریشن ہونا چاہیے، جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ مزدور کو کارخانے کے منافع میں شریک کیا جائے، میں جھونپڑیوں میں روشنی اور بچوں کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب چاہتا ہوں،نوجوانوں کوروزگار اور بے گھر انسان کا گھر چاہتا ہوں، کیا عوام کا کام ان کے جلسوں میں صرف ناچنا اور نعرے لگانا ہے۔