27 مئی 2018
تازہ ترین
 رائو انوار کی حفاظتی ضمانت منظور

رائو انوار نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر  آزاد جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کر دیا جس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے  اپنے  ریمارکس    میں کہا  ہے کہ رائو انوار کو گرفتار نہ کیا جائے، حفاظتی ضمانت فراہم کی جائے، سیکیورٹی فراہم کرنا بھی ضروری ہے، رائو انوار جمعہ کو سپریم کورٹ میں پیش ہوں، رائو انوار کیلئے نئی جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں جس میں پولیس افسر بھی شامل ہوں گے، قومی ادارے پر بے یقینی یا مایوسی کا اظہار نہیں ہونا چاہئے، عدالت پیشی کے موقع پر رائو انوار کو پولیس یا کوئی اور ایجنسی کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرے۔ سپریم کورٹ میں نقیب اللہ قتل  از خود نوٹس  کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس ثاقب  نے سوال کیا کہ کیا یہ خط رائو انوار نے لکھا ہے؟ سندھ پولیس کے حکام نے تصدیق کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رائو انوار کہتے ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ موقع پر موجود نہیں تھے ۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی اداروں پر مشتمل کمیٹی نے رپورٹ دیدی ہے۔ آئی بی نے ملزم کی لوکیشن ٹریس کرنے کی یقین دہانی کرائی  ہے۔ آئی بی کا کہنا ہے کہ  واٹس ایپ سے لوکیشن ٹریس نہیں ہوسکتی چیف جسٹس نے کہا کہ  اس کا مطلب ہے ابھی تک کچھ نہیں ہوا؟ ہم ہر بار وقت دیتے ہیں لگتا ہے رائو انوار کو ہمیں ہی پکڑنا ہوگا۔  آئی جی سندھ نے کہا کہ رائو انوار کو صفائی کا موقع ملنا چاہئے بے شک عدالت جے آئی ٹی بنا دے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر حکم دے دیتے ہیں رائو انوار  سپریم کورٹ آجائے۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے؟