16 نومبر 2018
نجی سکولوں کی فیسوں میں 5 فیصد اضافہ غیرقانونی قرار

سندھ ہائیکورٹ نے نجی سکولوں کی جانب سے فیسوں میں 5 فیصد سے زیادہ اضافے کو غیرقانونی قرار دے دیا۔  جسٹس عقیل احمدعباسی، جسٹس محمدعلی مظہر اور جسٹس اشرف جہاں پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے تین رکنی لارجر بینچ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔  دلائل کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ فیسوں میں اضافے کا تعلق بنیادی حقوق سے ہے اور اضافے کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہونا چاہیے جبکہ متعلقہ قانون میں یہ نہیں لکھا کہ سکولوں کو فیس میں سالانہ اضافے کا اختیار ہے۔ لارجر بنچ نے فیسوں میں اضافے کے خلاف والدین کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پرائیویٹ سکولز 5 فیصد سے زیادہ فیس بڑھانے کے اہل نہیں ہیں۔واضح رہے کہ والدین کے وکلائ کا موقف تھا کہ سکول اساتذہ کی تنخواہیں مجموعی اخراجات کا 50 فیصد بھی نہیں، اخراجات کے ساتھ سکول کی آمدنی بھی دیکھنی چاہیے۔ والدین کے مطابق آئین کا آرٹیکل 38 تمام فریقین پر لاگو ہوتا ہے اور عدالت عظمیٰ بھی قرار دے چکی ہے کہ یہ منافع بخش کاروبار ہے۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟