26 اپریل 2019
تازہ ترین
نجی سکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ نہیں،سپریم کورٹ

نجی سکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ نہیں،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے دو نجی سکولوں سے توہین آمیززبان استعمال کرنے پرتحریری جواب طلب کرلیا۔ سپریم کورٹ میں پرائیویٹ سکول فیس کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ نجی سکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں، نجی سکولوں سے بچے کتنی بیماریاں لے کرنکلتے ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نجی سکولوں نے عدالتی فیصلے پرچیف جسٹس کو خط لکھا، فیصلے میں تضحیک آمیززبان استعمال کی گئی۔ وکیل نجی سکول نے کہا کہ عدالت کی تضحیک کا کوئی ارادہ نہیں تھا، عدالتی فیصلے پرعمل کرکے فیس کم کردی ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کس قسم کی باتیں کی گئیں، سکول انڈسٹری ہے یا پیسہ بنانے کا شعبہ ، تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے، سکولوں نے گھروں میں زہرگھول دیا ہے، نجی سکول والے بچوں کے گھروں میں گھس گئے ہیں، والدین سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا تصور نہیں کرسکتے، والدین بچوں کوسیرکرانے کہاں جاتے ہیں یہ پوچھنے والے پرائیویٹ سکول والے کون ہوتے ہیں، نجی سکولوں سے کیوں نہ نمٹ لیا جائے، حکومت کونجی سکول تحویل میں لینے کا حکم دے دیتے ہیں۔ عدالت نے اسلام آباد کے دونجی سکولوں سے توہین آمیززبان استعمال کرنے پرتحریری جواب طلب کرتے ہوئے  کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کردی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟