26 ستمبر 2018
تازہ ترین
نامیاتی مالیکیولز سے بنی  ہارڈ ڈرائیوز

سائنس دان طویل عرصے سے ڈیٹا ذخیرہ کرنے کے لئے غیر روایتی ذرائع کی کھوج کر رہے ہیں۔ اس سمت میں ایک اہم پیش رفت امریکی محکمہ دفاع کے اعلان کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ انٹیلی جنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایکٹیوٹی امریکی محکمہ دفاع کا ماتحت ادارہ ہے جو امریکا کی خفیہ ایجنسیوں کے لئے نت نئی ایجادات کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اس ادارے نے امریکی ایجنسیوں کے لئے ایسے کمپیوٹر بنانے کا اعلان کیا ، جن میں ڈیٹا روایتی ہارڈ ڈرائیوز کے بجائے نامیاتی مالیکیولوں میں محفوظ کیا جائے گا۔ آئی اے آر پی اے کے مطابق عام میز کی سطح جتنی چوڑائی کی حامل یہ خصوصی مشینیں پولیمرز کے بڑے بڑے حصوں میں ڈیٹا محفوظ کریں گی۔ پولیمرز کی اصطلاح دھاگے نما لمبے مالیکیولوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ ان مالیکیولوں میں ڈیٹا انفرادی ایٹموں کے سلسلوں یا گروپوں میں محفوظ کیا جاسکے گا۔ امریکی خفیہ ادارے کا یہ پروجیکٹ دورحاضر کے ایک بے حد اہم مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے، اور وہ مسئلہ ہے ڈیٹا کی ہر لمحہ بڑھتی ہوئی مقدار اور اس کی ذخیرہ کاری کی ہر سیکنڈ بڑھتی ہوئی لاگت۔ لاگت میں اضافے کی اہم ترین وجہ ڈیٹا کی ذخیرہ کاری میں استعمال ہونے والی بجلی ہے۔ موجودہ دور میں کمپیوٹر ڈیٹا بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ ان ڈیٹا سینٹرز کے لاکھوں سرورز کو فعال رکھنے کے لئے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2016 میں دنیا بھر میں پھیلے ڈیٹا سینٹرز نے 416.2 ٹیراواٹ آورز بجلی خرچ کی۔ یہ بجلی کی عالمی رسد کے تین فیصد کے مساوی ہے۔ بجلی کی کھپت کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز ماحول کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔ ماحول دشمن گیسیں جنہیں گرین ہائوس گیسیں کہا جاتا ہے، ان کے مجموعی اخراج میں ڈیٹا سینٹرز کا حصہ دو فیصد ہے۔ انٹرنیٹ پر سفر کرتے ڈیٹا کی مقدار میں برق رفتار اضافے کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے اور اسی رفتار سے ان میں بجلی کی کھپت اور ان سے گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہورہا ہے۔ 2016 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ڈی این اے میں کمپیوٹر انفارمیشن ذخیرہ کی جاسکتی ہیں نیز اس ذریعے پر عام ڈیٹا سینٹرز کی نسبت کہیں کم توانائی خرچ ہوگی اور یہ بلند اور پست درجہ حرارت پر روایتی ہارڈ ڈرائیوز کی نسبت طویل عرصے تک فعال رہ سکتا ہے۔ تحقیق کے دوران آزمائشی طور پر ڈی این اے کمپیوٹر بنائے گئے تھے جن میں جینیاتی مالیکیولوں کو مختصر اور طویل مدت کے لئے ڈیٹا کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا ، تاہم اس تحقیق کے بعد سائنس دان یہ وضع نہیں کر پائے تھے کہ بڑے پیمانے پر ڈی این اے ڈیٹا سٹوریج کا اطلاق کیسے کیا جائے۔ آئی اے آر پی اے کے اس منصوبے کے تحت اسی پہلو پر تحقیق کو آگے بڑھایا جائے گا، یعنی ڈی این اے ڈیٹا سٹوریج کو وسیع پیمانے پر قابل عمل بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ یہ منصوبہ چار برسوں پر محیط ہوگا۔ دو مرحلوں پر مشتمل اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں ہائی سپیڈ پر مالیکیولوں سے ڈیٹا حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی ، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایسا آپریٹنگ سسٹم بنایا جائے گا جو ڈی این اے پر چل سکتا ہو۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟