15 نومبر 2018
ناقص غذا  خطرات پیدا کر رہی ہے

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہا  ناقص غذا کی وجہ سے دنیا میں ہر تین میں سے ایک شخص کی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔اقوامِ متحدہ کے تحت غذا کی عالمی تنظیم کی جانب سے پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی 2 ارب آبادی کو جسم کے لیے ضروری وٹامن اور معدنیات میسر نہیں جو ان کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہوتے ہیںجس کے باعث عالمی آبادی مختلف امراض سے دوچار ہورہی ہے جن میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر بیماریاں شامل ہیں اور اس کا معاشی اور معاشرتی نقصان ہورہا ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق پروسیس شدہ غذا اگرچہ امیر ممالک میں بیماریوں کی وجہ بن رہی ہے تاہم   اب ان کے اثرات کم ترقی یافتہ اور غریب ممالک میں بھی عام ہورہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ 20 برس میں یہ صورتحال مزید ابتر ہونے کا امکان ہے ۔  اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو یہ  بھی ملیریا اور ایڈز کی طرح عالمی بحران بن جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں 80 کروڑ افراد کو روزانہ کی بنیاد پر بھوک اور کھانے کی کمی کا سامنا ہے  بھوک کا  شکار خواتین ایسے بچوں کو جنم دے رہی ہیں جو عمر بھر بیماریوں کی زد میں رہتے ہیں۔ دوسری جانب نے خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  چین میں 2030 تک  نصف آبادی موٹاپے کا شکار ہوجائے گی جبکہ افریقی خواتین میں خون کی زبردست کمی سامنے آئے گی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟