19 مارچ 2019
تازہ ترین
ناشپاتی بالوں کی صحت کیلئے مفید

ناشپاتی ایک ایسا پھل ہے جو سیب کا سستا متبادل خیال کیا جاتا ہے۔ اس کا درخت بیج سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کی جڑوں سے نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں جنہیں پیوند کیا جاتا ہے۔ ایک ناشپاتی روز کھانا مختلف امراض سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ فائبر، پوٹاشیم اور دیگر اہم اجزا سے بھرپور یہ پھل کم کیلوریز کے ساتھ جسم کو مختلف اینٹی آکسیڈنٹس بھی فراہم کرتا ہے۔ ناشپاتی میں موجود گلوکوز کی مقدار کمزوری کی صورت میں فوری توانائی فراہم کرتی ہے، یہ گلوکوز بہت جلد جسم میں جذب ہوکر توانائی میں ڈھل جاتاہے۔ ناشپاتی میں فائبر وافر مقدار میں ہوتا ہے، جو جسم کے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاکر امراض قلب سے تحفظ دیتا ہے۔ اسی طرح فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے ناشپاتی کو روزانہ کھانا فالج کا خطرہ بھی 50 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ ناشپاتی میں موجود فائبر ایسے خلیات کی روک تھام کرتا ہے، جو آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ایک ناشپاتی کھانا خواتین میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ 34فیصد تک کم کرسکتا ہے۔ جو لوگ ناشپاتی روزانہ کھاتے ہیں ان کے موٹا ہونے کا امکان 35 فیصد کم ہوتا ہے۔ امریکا کی لوزیانہ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ناشپاتی فائبر اور وٹامن سی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، جو جسمانی وزن میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ناشپاتی میں کیلوریز بہت کم ہیں اور اس سے وزن کم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ یہ آپ کا پیٹ کافی دیر تک بھرا ہوا رکھتی ہے کیونکہ اس میں فائبر زیادہ ہوتا ہے۔  ناشپاتی میں وٹامن سی، وٹامن کے اور کاپر جیسے اجزا موجود ہوتے ہیں، جو جسمانی خلیات کو نقصان پہنچانے والے مضر عناصر کی روک تھام کرکے جِلد کی صحت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ فولک ایسڈ حاملہ خواتین کے لئے بہت اہم ہے۔ ناشپاتی میں بھی فولک ایسڈ موجود ہے اور دوران حمل اس کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس پھل میں سوڈیم اور پوٹاشیم بھی ہوتا ہے، جس  سے دل کے امراض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ ناشپاتی کھانے سے خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور یوں دل کے مسلز مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ پھل تاثیر میں ٹھنڈا ہوتا ہے اور یہ ٹھنڈک بخار کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ناشپاتی سے تیل بھی کشید کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے حیرت انگیز فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یہ تیل بالوں کے لئے فائدہ مند ہے اور بالوں کو گرنے سے روکتا ہے۔  


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟