ناسا کی سپر ہبل دور بین تیار

امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے اپنی طاقتور دور بین ہبل کو مزید بہتر اور موثر بنا دیا۔ جس کے بعد اسے سپر ہبل کا نام دیا گیا ۔ ناسا کے مطابق یہ انتہائی حساس اور دور رس دوربین 2025تک زیر استعمال آجائے گی اور پورے یقین کیساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی مدد سے ہم تقریباً400نئے چھوٹے بڑے سیاروں کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ سپر ہبل دوربین کی مدد سے ہم اپنے نظام شمسی سے کافی پرے موجود اجرام فلکی کو دیکھ سکتے ہیں اور یہ سب کچھ مشہور سائنسدان آئن سٹائن کے انتہائی اہم طبیعاتی نظریے کے طفیل ممکن ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ سپر ہبل دوربین کی مدد سے کہکشاں کی عام ہبل دوربینوں کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تیز رفتاری سے تصاویر اتاری جاسکیں گی۔ اس مقصد کیلئے ناسا نے 3.25 ارب ڈالر کی رقم مختص بھی کردی۔ سپرہبل دوربین بالائے بنفشی کی صرف شعاعوں کی مدد سے اب تک پردے میں رہنے والی کالی توانائی کا بھی پتہ لگایا جاسکے گا۔ اس دوربین سے لیس خلائی سیارہ آئندہ سال کے وسط میں تجرباتی پرواز پر بھیجا جاسکتا ہے۔ کائنات کے وجود میں آنے کا سبب سمجھے جانے والے دھماکے کے 50کروڑ سال بعد بھی اب تک صرف چند کہکشاں کا سراغ لگایا جاسکا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟