15 نومبر 2018
تازہ ترین
 ناریل پانی گردوں کے امراض کیلئے مفید

ناریل قدرت کی طرف سے انسانوں کو دیا ہوا ایسا تحفہ ہے جس کے بے شمار فائدے ہیں ناریل کو ایسے ہی کھایا جائے یا اس کا پانی پیا جائے دونوں ہی صورتوں میں ناریل انسان کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ ہرے یا کچے ناریل کے پانی میں وٹامن سی،  فائبر اور منرلز وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ناریل کے پانی میں 94فیصد پانی شامل ہوتا ہے جو انسان کی پیاس بجھانے کے ساتھ جلد اور جسم کے لئے بھی بے حد فائدے مند ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ناریل کا پانی جسم میں شوگر کی مقدار کم کرنے میں بہت مدد کرتا ہے۔ شوگر کے مریض بغیر کسی خدشات کے ناریل کا پانی اپنی روزمرہ غذا میں استعمال کر سکتے ہیں۔ ناریل کے پانی میں فائبر کے علاوہ میگنیشیم بھی پایا جاتا ہے جو ذیا بیطس کی اقسام نمبر 2 کے مریضوں کی شوگر کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ناریل کا پانی اینٹی آکسیڈنٹ کا بہترین ذریعہ ہے جو جسم کو نقصان پہنچانے والے ذرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم میں بلڈ پریشر اور انسولین لیول کو قابو میں رکھتا ہے۔ ناریل پر کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ناریل کا پانی گردوں کے امراض میں بے حد مفید ہے۔ ناریل کا پانی پینے سے گردوں میں پتھری ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناریل کا پانی کرسٹل کو گردوں میں چپکنے سے روکتا ہے اور باآسانی اس کے اخراج میں مدد کرتا ہے، لہٰذا سادہ پانی پینا تو گردوں کے امراض میں مفید ہے ہی لیکن ناریل کا پانی سادہ پانی کا بہت اچھا نعم البدل ثابت ہوسکتا ہے۔ ناریل کا پانی دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لئے بھی بہت مفید ہے، ناریل کا پانی دل کے امراض کو کم  کرنے میں بہت مدد کرتا ہے، ناریل کے پانی میں کولیسٹرول کم کرنے کی بہت اچھی صلاحیت ہوتی ہے جس کے باعث دل کے امراض ہونے کا خدشہ کم ہوتا ہے۔ ورزش کے بعد زیادہ تر لوگ انرجی بڑھانے والے مشروبات کا استعمال کرتے ہیں لیکن ان مشروبات کی جگہ اگر ناریل کا پانی استعمال کرلیا جائے تو اس کے فائدے دیگر مشروبات کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ ناریل کا پانی جسم میں پانی کی کمی کو کم کرنے، پیٹ اور معدہ کی تکلیف کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ لہٰذا مہنگے انرجی والے مشروبات کی جگہ اگر ناریل کا پانی پی لیا جائے تو یہ زیادہ موثر ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟