23 ستمبر 2018
تازہ ترین
میں نوازشریف کے ساتھ کھڑا ہوں جیسے 1999 میں کھڑا تھا،صدر مملکت

صدر مملکت ممنون حسین اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہارلے اسٹریٹ کلینک پہنچے جہاں انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت کی۔ نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے صدرِ پاکستان ممنون حسین اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔ ہارلے اسٹریٹ کلینک میں زیر علاج بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے بعد اپنی گفتگو میں صدر ممنون حسین نے کہا کہ  میری بیگم کلثوم نواز سے بات ہوئی ہے انہوں نے دعا کی اپیل کی صدر ممنون حسین نے مزید کہا کہ  میں نوازشریف کے ساتھ کھڑا ہوں جیسے 1999 میں کھڑا تھا ۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز نے کہا کہ صدر کے انتخاب کا فیصلہ ن لیگ کی قیادت کرے گی وہ اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ اپنی والدہ کے حوالے سے حسین نواز نے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز آئی سی یو میں ہیں، بات چیت کرتی ہیں مگر بیٹھ نہیں سکتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری والدہ مریم نواز کا پوچھتی ہیں کہ وہ کال کیوں نہیں کرتیں، میاں نوازشریف سے ٹیلی فون پر بات ہوئی، پاکستانی سِم پر میاں نوازشریف نے کال کی اور ان سے بات ممکن ہو سکی۔ حسین نواز نے بتایا کہ میاں نواز شریف کو ہفتے میں ایک آدھ بار فون کرنے کی اجازت ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس اگست میں ڈاکٹرز نے کلثوم نواز کو گلے کا کینسر تشخیص کیا تھا جس کے بعد سے وہ لندن میں علاج کروا رہی ہیں۔ احستاب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں 6 جولائی کو سزا سنائے جانے کے بعد نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ 12 جولائی کو لندن سے پاکستان کے لیے روانہ ہوئے تھے اور 13 جولائی کو دونوں کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟