20 نومبر 2018
تازہ ترین
مکڑیوں کے کان نہیں ہوتے لیکن وہ پھر بھی سن سکتی ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ مکڑیوں میں کانوں کے علاوہ بھی ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی جو انہیں سننے میں کوئی بھی مدد دے سکے لیکن پھر بھی وہ کمرے میں موجود افراد کی ہلکی آوازیں سن سکتی ہیں اور ان پر ردِعمل بھی ظاہر کرسکتی ہیں۔ہوا یہ کہ کارنیل یونیورسٹی میں حشریات (کیڑے مکوڑوں سے متعلق علم) کے ماہرین ’’چھلانگے لگانے والی مکڑی‘‘ (جمپنگ اسپائیڈر) کا مطالعہ کررہے تھے۔ یہ مکڑیوں کی سب سے عام قسم ہے جس کی اب تک 5800 سے زائد انواع (species) دریافت ہوچکی ہیں۔ مطالعے کا مقصد مکڑیوں میں اعصابی سرگرمیوں کی نوعیت اور شدت کے بارے میں جاننا تھا جس کے لیے سائنسدانوں نے بڑی جسامت والی ’’چھلانگو مکڑیوں‘‘ کے سروں پر مختصر لیکن انتہائی حساس آلات نصب کردیئے تھے۔اسی دوران ایک ماہر کو صرف ہلکی آوازوں پر اِن مکڑیوں کے اعصاب میں کچھ ہلچل کا پتا چلا، جیسے مکڑیوں نے آواز سن کر ردِعمل ظاہر کیا ہو۔ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے ماہرین نے ان مکڑیوں کو علیحدہ علیحدہ ڈبوں میں بند کیا۔ یہ ڈبے خاص طور پر اس طرح تیار کیے گئے تھے کہ زمین یا دیواروں میں ہونے والی تھرتھراہٹ ان کے اندر داخل نہیں ہوسکتی تھی۔ پھر انہوں نے مختلف فریکوینسی والی آوازیں ان ڈبوں میں داخل کیں تو وہ یہ جان کر حیرت زدہ رہ گئے کہ مکڑیاں ان آوازوں کو بخوبی سن رہی تھیں۔ان آوازوں پر مکڑیوں کا ردِعمل جانچنے کے لیے انہوں نے مختلف کیڑے مکوڑوں سے مخصوص آوازیں ان ڈبوں میں داخل کیں۔ بے ضرر کیڑوں کی آوازوں پر ان مکڑیوں کا ردِعمل کچھ خاص نہیں تھا۔ لیکن جیسے ہی ڈبوں میں مکڑیوں کا شکار کرنے والی بھڑ جیسی آواز بھیجی گئی جس کی فریکوینسی 80 ہرٹز تھی تو یہ مکڑیاں فوری طور پر ہوشیار ہوگئیں جیسے خود کو حملہ آور بھڑ سے بچانا چاہتی ہوں۔ماہرین کے مطابق ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ مکڑیاں کانوں یا کانوں جیسی کسی بھی دوسری چیز کے بغیر کیسے آوازیں سن لیتی ہیں۔ البتہ انہیں شبہ ہے کہ شاید وہ اپنی ٹانگوں پر موجود باریک باریک بالوں سے کانوں کا کام لیتی ہیں۔مکڑیوں کا تعلق کیڑے مکوڑوں سے نہیں بلکہ جانوروں کے ’’کیلی سیراٹا‘‘ (chelicerata) نامی گروہ سے ہے جس میں مکڑیوں کے علاوہ کیکڑے اور بچھو وغیرہ شامل ہیں۔ اسی لیے مکڑی کو مذاقاً ’’کیکڑے کا کزن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟