19 نومبر 2018
 مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟

ہوسکتا ہے کہ کبھی اپنے دوستوں کے ہمراہ کسی کھلی جگہ میں چہل قدمی یا کیمپنگ کے ارادے سے گئے ہو اور آپ نے محسوس کیا ہو کہ مچھر کچھ لوگوں سے دور رہتے ہیں جبکہ کچھ سے انہیں بہت محبت ہوتی ہے؟ یہاں تک کہ گھر میں بھی کچھ افراد اس ننھے سے کیڑے کے ڈنک کا زیادہ شکار ہوتے ہیں جبکہ کچھ کو اس کا تجربہ تک نہیں ہوتا؟ تو اس کی وجہ ایک نئی تحقیق میں سامنے آگئی ہے جس میں محققین نے اس کا جواب دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے پروفیسر جوناتھن ڈے کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ 2 وجوہات کی بنا پر کچھ لوگ مچھروں کے لیے بہت زیادہ پرکشش ہوجاتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ پہلی وجہ سہ پہر کے وقت مچھروں کی بینائی بہت تیز ہوجانا ہے، جس دوران انہیں آس پاس کے مناظر زیادہ آسانی سے نظر آنے لگتے ہیں، تو اگر کسی شخص نے گہرے رنگ جیسے نیلے، سرخ یا سیاہ لباس پہن رکھا ہو، تو وہ خون چوسنے والے کیڑوں کی نظروں میں آکر ان کا ہدف بن جاتے ہیں۔ اسی طرح باہر گھومنے کے دوران بھی لوگ مچھروں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں، اب چاہے وہ ورزش کررہے ہوں یا دوستوں کے ساتھ کسی جگہ بیٹھے ہوں۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دوسری وجہ کچھ افراد کی جلد میں موجود مخصوص کیمیکلز کی مقدار زیادہ ہونا ہے، کچھ کیمیکل جیسے لیسٹک ایسڈ مچھروں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ لیسٹک ایسڈ پسینے کے دوران خارج ہوتا ہے، اسی طرح سانس کے دوران بھی ایک کیمیکل acetone کا اخراج مچھروں کو اپنی جانب کھینچتا ہے اور ایسے افراد ان کیڑوں کے ڈنک کا بہت زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ تحقیق میں یہ دلچسپ بات بھی بتائی گئی کہ اے اور بی بلڈ گروپس کے مقابلے میں او بلڈ گروپ کے حامل افراد مچھروں کو زیادہ مرغوب ثابت ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے فلوریڈا یونیورسٹی کی ہی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جسمانی طور پر زیادہ حجم رکھنے والے افراد زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں اور یہ گیس مچھروں کو اپنی جانب زیادہ کھینچتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بچوں کے مقابلے میں بالغ افراد مچھروں کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ننھے کیڑوں کے حملے سے بچنے کے لیے ہلکے پھلکے اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا مددگار ثابت ہوسکتا ہے جبکہ جسم کے کھلے حصوں کو ڈھانپ کر رکھنا بھی مدد دیتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟