16 دسمبر 2018
تازہ ترین
مچھروں سے ڈینگی بخار کا خاتمہ

 آسٹریلوی ماہرین نے خصوصی مچھروں سے ڈینگی مچھروں کا کامیابی سے خاتمہ کیا ، جس کے حتمی نتائج منظر عام پر آگئے ہیں۔ کوئنس لینڈ کے شہر ٹائونس ویلی میں ڈینگی کیسز صفر ہوگئے، جس کی وجہ یہ ہے کہ پورے شہر میں تبدیل شدہ خاص مچھر چھوڑے گئے جن کی بدولت ڈینگی وائرس کا جڑ سے خاتمہ ہوگیا ۔ اگر اسے پوری دنیا میں آزمایا جائے تو ہر سال اربوں افراد کو ڈینگی اور مچھروں سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔ اس کے لئے ماہرین نے ایک مشہور بیکٹیریا  وولبیکیا کا انتخاب کیا جو کرہ ارض پر پھل مکھی سمیت 60 فیصد کیڑوں میں عام پایا جاتا ہے لیکن یہ ڈینگی، چکن گونیا اور دیگر بیماریاں پیدا کرنے والے سب سے خوفناک مچھر  ایڈس ایجپٹیائی کے اندر نہیں پایا جاتا۔ ماہرین نے پہلے تحقیق کی کہ اگر کسی طرح ڈینگی والے مچھر میں وولبیکا بیکٹیریا داخل کر دیا جائے تو خود اس کے اندر ڈینگی وائرس کی افزائش متاثر ہوگی۔ اس ضمن میں ڈینگی کے لاکھوں انڈوں میں وولبیکا بیکٹیریا داخل کئے گئے۔ اس طرح کوئی 40 لاکھ انڈے تیار کرکے انہیں مچھروں کی مقامی آبادی کے ساتھ ملا کر ٹائونس ویلی کے 25 مربع میل میں پھیل ادیا گیا ۔ جب وولبیکا بیکٹیریا والے ایڈس ایجپٹیائی مچھروں کی پیدائش ہوئی تو ملاپ کے بعد مزید مچھر وولبیکا والے پیدا ہوئے لیکن اسی شرح سے ان میں ڈینگی وائرس کم سے کم تر ہوتا گیا۔ چار سال قبل علاقے میں ڈینگی کے ہزار سے زائد کیس ہوئے تھے لیکن اس سال ڈینگی بخار کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈینگی بردار مچھر اب پیدا تو ہورہے ہیں لیکن ان میں ڈینگی وائرس موجود نہیں رہا۔ یہ بہت مہنگا نسخہ ہے جس میں فی فرد 15 ڈالر یا 1700 روپے خرچ ہوئے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟