23 ستمبر 2018
تازہ ترین
مٹھی میں سمانے والے ڈرونز فوجی دستے کا حصہ

 جدید تحقیق کے بعد مٹھی میں آجانے والے ڈرون کو امریکی فورسز کے حوالے کیے جانے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں جسے رواں ماہ منعقد ہونے والی دفاعی نمائش میں بھی پیش کیا جائے گا۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں آئے روز نئی تحقیق سامنے آرہی ہیں جن کے ذریعے عظیم الحبثہ ریکارڈ سمٹ کر ایک انچ کی چپ میں سما جاتا ہے۔ طب ہو یا آلات جراحی یا پھر جنگی ساز و سامان، ٹیکنالوجی نے ہر جگہ اپنی اہمیت کو منوایا ہے۔ اسی ضمن میں ڈرون ٹیکنالوجی کے ماہرین کی گزشتہ کئی برس سے جاری تحقیق نے کامیابی کی منزل  بلیک ہارنیٹ تھری کی صورت میں پالی ہے۔ ڈرون بلیک ہارنیٹ تھری کو گزشتہ برس آزمائشی طور پر تیار کیا گیا تھا جس کی کامیابی کے بعد اس سال ہتھیلی میں سما جانے والے ڈرون کو امریکی فورسز کے حوالے کردیا جائے گا جب کہ امریکی فورس اس مختصر ترین ڈرون کو رواں ماہ پیرس میں ہونے والی دفاعی نمائش میں پیش کرے گی۔ یہ ڈرون دشمن ممالک کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے اہم ہتھیار ثابت ہوگا۔ سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ 6.6 انچ کا ہیلی کاپٹر کی ساخت جیسا یہ ڈرونز فضا میں دشمن کی نظروں سے اوجھل رہے گا جب کہ یہ ڈرونز مخالف فورسز کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے لائیو ویڈیوز اور ایچ ڈی تصاویر بنا سکے گا۔ تصاویر اور ویڈیوز کو فوری طور پر امریکی فورس کے مانیٹرنگ سیل بھیجا جا سکے گا جس کی بنیاد پر امریکی فورس پیش قدمی کرے گی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟