17 نومبر 2018
مومنہ مستحسن کی  بھی  جنسی ہراسگی کا شکار ہونے کی شکایت

میشا شفیع کے بعد پاکستان کی معروف گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی جنسی ہراسانی کا شکار ہوئی ہیں۔پاکستان کی خوبرو اور نامور گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے ہراسانی کے واقعے پر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔مومنہ نے انسٹاگرام پر اپنے اوپر بیتی جانے والی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جا چکا ہے، اور جنسی ہراساں ہونے کا یہ معاملہ صرف علی ظفر تک محدود نہیں، یہ معاملہ مجموعی طور پر مردوں سے منسلک ہے جو عورتوں کے ساتھ تعلق میں اعتماد کو اہمیت نہیں دیتے۔انہوں نے کہا اکثر اوقات خواتین کی عزت کے ساتھ وہ ہی لوگ کھیلتے ہیں جو ان کو کسی نہ کسی طور پر جانتے ہیں، اس معاملے میں ملوث ہر اس مرد کو کھلم کھلا معافی مانگنی چاہیے۔مومنہ نے کہا میں  نے علی ظفر اور میشا شفیع کے معاملے  نے یہ سوال بہت سنا کہ میشا نے یہ سب کہنے میں اتنا وقت کیوں لگایا جس کا جواب یہ ہے کہ متاثرہ شخص کوہی معاشرے میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب کہ اس پر معاشرے کی جانب سے چپ  رہنے کا دبا بھی ہوتا ہے اوراسے اس معاملےکا کسی کے سامنے ذکر نہ کرنے کیلئے کہا جاتا ہے کیونکہ کچھ لوگ اپنے دفاع میں فورا ہی لڑکی کے کردار پر سوال اٹھادیتے ہیں اور انہیں عدالت میں لے جاکر ذلیل کرتے ہیں۔ اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ عدالت میں جنسی ہراسگی کو ثابت کرنا ناممکن ہے لہذا کچھ خواتین کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہوتا کہ کیس سے پیچھے ہٹ جائیں کیونکہ اس کا اثر ان کے گھروالوں اور آنےوالی زندگی پر پڑتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟