22 اکتوبر 2019
تازہ ترین
  موسیقار نثار بزمی کی 12 ویں برسی

  موسیقار نثار بزمی کی 12 ویں برسی

معروف موسیقار نثار بزمی کو دنیا سے رخصت ہوئے 12 برس بیت گئے لیکن ان کی تخلیق کی گئیں لازوال دھنیں آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ نثار بزمی 1924 میں بمبئی کے نزدیک خاندیش کے قصبے میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نثار بزمی شروع سے ہی مشہور بھارتی موسیقار امان علی خان سے متاثر تھے ،تاہم انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو ڈرامے نادر شاہ درانی کی موسیقی ترتیب دینے سے کیا جبکہ بطور موسیقار ان کی پہلی فلم  جمنا پار تھی جو 1946 میں ریلیز ہوئی، جس کے بعد ان کی موسیقی ہر فلمساز کی ضرورت بن گئی۔ انہوں نے تقریباً 40 بھارتی فلموں میں موسیقی کی ترتیب کی۔ ممبئی میں ان کا ستارہ اس قدر عروج پر تھا کہ لکشمی کانت پیارے لال جیسے موسیقار ان کی معاونت میں کام کر چکے تھے لیکن پاکستان فلم انڈسٹری کے معمار فضل احمد فضلی کے بلاوے پر انہوں نے بھارت چھوڑ کر پاکستان میں سکونت اختیار کرلی۔ پاکستان میں قدم جمانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا کیونکہ یہاں کے فلمی فلک پر بھی اس وقت موسیقی کے کئی آفتاب اور مہتاب روشن تھے تو اس وقت پاکستان کی فلمی موسیقی میں خورشید انور اور رشید عطرے جیسے موسیقار چھائے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بابا چشتی، فیروز نظامی، روبن گھوش، سہیل رانا اور حسن لطیف بھی اپنے فن کا جوہر دکھا رہے تھے۔  ان کی بطور موسیقار پاکستان میں پہلی فلم  ایسا بھی ہوتا ہے تھی ۔ جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکرنہیں دیکھا۔  صاعقہ، انجمن، میری زندگی ہے نغمہ، خاک اور خون اور ہم ایک ہیں جیسی فلموں کی موسیقی تخلیق کی۔ 1966 میں انہوں نے  لاکھوں میں ایک کی موسیقی مرتب کی تو پاکستان کی فلمی دنیا میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے ہر شخص پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ بمبئی کا یہ موسیقار محض تفریحاً یہاں نہیں آیا بلکہ ایک واضح مقصد کے ساتھ یہاں مستقل قیام کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ نثار بزمی کو ان کی فنی خدمات کے باعث پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت کئی دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ نثاربزمی کو نیم کلاسیکی دھنوں سے لے کر فوک اور پاپ میوزک کی دھڑکتی پھڑکتی کمپوزیشن تک ہر طرح کی بندشوں میں کمال حاصل تھا اسی لئے محمد رفیع، احمد رشدی، مہدی حسن اور نور جہاں جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں کے  ساتھ انہوں نے رونا لیلٰی اور اخلاق احمد جیسی آوازوں کو بھی نکھرنے اور سنورنے کا موقع دیا۔ عظیم موسیقار 22 مارچ 2007  کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی تخلیق کردہ موسیقی آج بھی کروڑوں لوگوں کو مسحورکردیتی ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟