24 ستمبر 2018
تازہ ترین
مودی کا یوم آزادی کی تقریر میں  کشمیریوں کوپھر جھانسا

 بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے ملک کے یوم آزادی کے موقع پر تقریر میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں وہی ایک سال پہلے کی جانے والی باتیں دہرا دیں۔ بھارت کے 71 ویں یوم آزادی کے موقع پر دلی کے لال قلعے میں منعقدہ تقریب میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرا مودی نے کشمیریوں کو ایک بار پھر جھانسا دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ گولی اور گالی کے بجائے کشمیریوں کو گلے لگا کر حل کرنا چاہتے ہیں، ہماری حکومت سابق وزیراعظم اٹل بہاری واچپائی کی تعلیمات کو اپناتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ  انسانیت، کشمیر یت اور جمہوریت  ، ہم ان تینوں باتوں کو لے کر مقبوضہ کشمیر سمیت مسلم اکثریت والے علاقوں کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ نریندرا مودی نے کہا کہ ہم گولی اور گالی سے مسئلہ کشمیر کا حل نہیں چاہتے بلکہ کشمیریوں کو گلے لگاکر اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں اور اسی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، جب کہ ہماری حکومت مقبوضہ وادی میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے بھی پر عزم ہے۔ گزشتہ سال بھارت کے 70 ویں یوم آزادی پر بھی اسی مقام پر کھڑے ہوکر مودی نے یہی الفاظ دہرائے تھے کہ  کشمیر کا مسئلہ گولی یا گالی سے نہیں بلکہ گلے لگانے سے حل ہوگا۔ تاہم اس ایک سال میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے پہلے سے بھی زیادہ ظلم و درندگی کا بازار گرم کیا اور  نہتے مظاہرین پر فائرنگ و جعلی آپریشنز میں سیکڑوں معصوم کشمیریوں کو شہید کر دیا۔

نریندرا مودی کی کشمیریوں کو گلے لگانے کی پالیسی زمینی حقائق کے برخلاف ہے اور قابض فوج کے ہاتھوں صرف گزشتہ ایک ماہ میں 21 کشمیریوں کی شہادت اس کی درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تازہ رپورٹ نے بھی کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی تصدیق کرتے ہوئے اسے آئینہ دکھایا ہے۔ بھارتی وزیراعظم  کا تقریر میں مزید  کہنا  تھا کہ تین طلاق کے معاملے نے ہماری ملک کی مسلم خواتین کو تباہ کر رکھا ہوا ہے، ہم نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے مسلمان خواتین کے اس معاملے کو حل کا بیڑہ اٹھایا لیکن اب بھی کچھ لوگ اس قانون کا نفاذ نہیں چاہتے، تاہم میں مسلمان خواتین کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کا حق دلانے میں کچھ بھی کمی نہیں کروں گا۔

 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟