17 دسمبر 2018
تازہ ترین
منرل واٹر کیس،بند کردیں اس انڈسٹری کو جو ملک کو بنجر بنا رہی،چیف جسٹس

 چیف جسٹس پاکستان نے منرل واٹر کی فروخت سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ منرل واٹر کمپنیوں نے زیر زمین پانی سکھا دیا ہے اور نلکوں میں پانی آنا بند ہوگیا ہے، بند کردیں اس انڈسٹری کو جو ملک کو بنجر بنا رہی ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بغیر ادائیگی زیر زمین پانی بیچنے کے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں اعتزاز احسن منرل واٹر کمپنی کی طرف سے پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ پانی بیچنے والی کوئی کمپنی پیسے نہیں دے رہی، اربوں گیلن پانی لیا گیا اور لاکھوں روپے بھی نہیں دیئے گئے جب کہ کمپنیوں کی اکثریت غیر معیاری پانی بیچ رہی ہے۔ اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ زیر زمین پانی نکالنے، صاف کرنے اور مارکیٹ کرنے پر اخراجات ہوتے ہیں،اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا کرتے ہیں آپ کی ٹربائنیں بند کرا دیتے ہیں اور کمپنی سے کہتے ہیں نلکے کا پانی دے۔ اس موقع پر اعتزاز احسن نے عدالت میں پانی کی صفائی سے متعلق رپورٹ پڑھی جس پر جسٹس ثاقب نثار نے ان سے مکالمہ کیا کہ آپ انڈس ساگا تو نہیں پڑھ رہے، اعتزاز احسن آپ نے تو صرف بتایا تھا کہ کتنے پیسے ادا کررہے ہیں۔ ان کمپنیوں نے زیر زمین پانی سکھا دیا ہے اور نلکوں میں پانی آنا بند ہوگیا ہے، بند کردیں اس انڈسٹری کو جو ملک کو بنجر بنا رہی ہے، لوگوں میں نخرے آگئے ہیں، آدھی بوتل پانی کی چھوڑ دیتے ہیں، عوام سے کہتا ہوں نلکوں کا پانی پیئیں، دیہات میں آج بھی سادہ پانی پیتے ہیں یہ نخرے شہریوں کے ہیں۔  یہ کمپنیاں کام کرنا چاہتی ہیں تو ایک روپیہ فی لیٹر حکومت کو دیں، اس پر اعتزاز احسن نے موقف اپنایا کہ ہم پچاس پیسے فی لٹر دے سکتے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ایک روپے کا پانی لے کر باون روپے میں بیچتے ہیں، لاہور میں زیر زمین پانی چار سو فٹ تک پہنچ گیا ہے، منرل واٹر کمپنیوں نے لاہور اور شیخوپورہ کو سکھا دیا ہے، عوام سے درخواست ہے کہ بوتلوں کا پانی پینا بند کر دیں، جنہوں نے ہماری زمینیں بنجر کیں اور پیسے بھی نہیں دیتے ان کے پانی کا استعمال بند کریں۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟