18 ستمبر 2018
تازہ ترین
ملک بھر کی تاجر برادری دہشتگردی کیخلاف متحد

ملک بھرکی کاروباری برادری نے دہشتگردی کے خلاف یک زبان ہو کر سیکیورٹی فورسز کو قیام امن کیلئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے۔  تفصیلات کے مطابق کراچی،لاہور اور اسلام آبادچیمبرز کے عہدیداروں نے خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران امیدواروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے دہشتگردی کے خاتمے اور انسانیت کے دشمنوں کوکچلنے کیلئے فوری اصلاحی اقدامات کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سخت سے سخت حکمت عملی اپنانا کا مطالبہ کردیا ہے۔بزنس مین گروپ کے رہنمائوں اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشتگردی کے 2 واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔بی ایم جی کے رہنمائوں اور کے سی سی آئی کے عہدیداران نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ ملک کے ہر کونے میں خاص طور پر انتخابی سرگرمیوں والے علاقے جنہیں با آسانی ہدف بنایا جارہاہے ان علاقوں میں سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور ملک بھر میں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے سخت ترین حکمت عملی اختیار کی جائے۔چیئرمین بی ایم جی سراج قاسم تیلی، طاہر خالق، زبیر موتی والا، ہارون فاروقی، انجم نثار، کراچی چیمبر کے صدر مفسر عطا ملک، سینئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرزاق، نائب صدر ریحان حنیف نے زور دیاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت سے سخت حکمت عملی اپنانا چاہیے تاکہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشتگردی کا مزید کوئی واقعہ رونما نہ ہو کیونکہ 2013 سے اب تک کئی قربانیوں کے بعد ملک بھر میں امن بحال ہوسکا ہے جس  میں پاکستان کا امیج بہتر ہوا۔ بی ایم جی کے رہنمائوں اور کے سی سی آئی کے عہدیدران نے بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہارون بلور سمیت درجنوں معصوم افراد کی شہادت پر گہرے رنج  و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہدا کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے شہدا کے بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مستونگ اور بنوں میں بدترین دہشتگردی کی شدید مذمت اور سیکڑوں افراد کی شہادتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور سیکیورٹی فورسز سے اپیل کی ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ انسانیت کے دشمن ان عناصر کو سختی سے کچل دیں۔لاہور چیمبر کے عہدیداران نے مستونگ، بنوں کے سانحات کو پاکستان کیلئے ایک اور بلیک ڈے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے شیطانی اقدامات پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، سیاستدانوں اور لوگوں کا قتل عام ملک میں انتشار پھیلانے کی گھناؤنی سازش ہے لہٰذا حکومت اور سیکیورٹی فورسز ان عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں۔ کاروباری برادری اچھی طرح سمجھتی ہے کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے بڑے اداروں نے دہشتگردی کا قلع قمع کیا اور بڑی قربانیاں دی ہیں مگر دہشتگردی کی یہ نئی لہر مزید سخت اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ کاروباری برادری ملکی مفاد کی خاطر حکومت اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، یہ محض بلوچستان اور خیبر پختون خوا کا نہیں بلکہ ساری قوم کا سانحہ ہے اور ہر شخص اس پر خون کے آنسو روتے ہوئے اپنے بھائیوں کی قیمتی جانوں کے نقصان پر سوگوار ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟