23 اکتوبر 2018
تازہ ترین
ملائیشین حکومت کا سزائے موت پر پابندی کا اعلان

ملائیشیا کی حکومت نے ملک میں سزائے موت ختم کرنے کا اعلان کر دیا غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کے وزیر قانون داتوک لیو ووئی نے کہا کہ سزائے موت پر پابندی کے لیے قانون اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 15 اکتوبر کو ہونے والے اگلے پارلیمانی اجلاس میں یہ بل پیش کردیا جائے گا، اس وقت تک تمام قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے، ان کے لیے دیگر مناسب سزائیں متعارف کرائی جائیں گی جن میں زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہوگی۔ ملائیشیا میں قتل، اغوا، ملک سے بغاوت اور منشیات فروشی کی خرید و فروخت کے جرائم میں سزائے موت کا قانون ہے۔ تاہم اب حکومت کسی بھی طرح کے جرم میں سزائے موت ختم کردے گی اور ان کی جگہ دیگر سزائیں دی جائیں گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایک سال میں ملائیشیا میں 416 غیر ملکیوں سمیت 799 قیدیوں کو منشیات سے متعلق جرائم پر سزائے موت سنائی گئی۔ حال ہی میں ایک آسٹریلوی خاتون ماریا ایکسپوستو کو بھی منشیات کی اسمگلنگ پر سزائے موت سنائی گئی ہے اور ملائیشیا پر ماریا ایکسپوستو کو معاف کرنے اور رہائی کے لیے آسٹریلوی حکومت سمیت انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کا دباؤ ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟