16 نومبر 2018
مصنوعی ذہانت نے صحافی کے بولنے کا قابل بنادیا

 قوت گویائی سے محروم ہوجانے والے ایک امریکی صحافی جیمی ڈپری کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے نئی آواز دے کر بولنے کے قابل کر دیا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریڈیو سے منسلک 54 سالہ صحافی جیمی ڈپری ایک نیورو لوجیکل بیماری کے باعث قوت گویائی کھو بیٹھے تھے۔ امریکی سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے صحافی کو بولنے میں مدد فراہم کی جس کے لئے صحافی کے پرانے صوتی ریکارڈز کو استعمال میں لایا گیا۔ اس قسم کی ٹیکنالوجی میں کسی حادثے کے باعث قوت گویائی سے محروم ہوجانے والے افراد کی 30 گھنٹوں پر مشتمل  گفتگو کی ریکارڈنگ کو ایک مخصوص آلے میں منتقل کیا جاتا ہے جو مصنوعی ذہانت کے تحت کام کرتا ہے اور الفاظ کو علیحدہ کرنے، مریض کے بولنے کے انداز اور لب و لہجے کو پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس آلے کی مدد سے صحافی کو نئی آواز دے دی گئی۔ یہ ٹیکنالوجی مریض کے ہونٹوں کی جنبش، وائس بکس سے نکلنے والی صوتی اثرات اور مریض کی ریکارڈ شدہ گفتگو کو ہم آہنگ کر کے ایک نئی آواز میں مریض کے الفاظ ادا کرتی ہے تاہم یہ علاج نہایت مہنگا ہے اور اس میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟