25 ستمبر 2018
تازہ ترین
مصنوعی بازو میں درد محسوس کرنے والی جلد تیار

 ماہرین نے الیکٹرانک جلد تیار کی ہے جو مصنوعی بازوئوں میں درد اور چھونے کا احساس جگاتی ہے، ای ڈرمس نامی اس جلد میں جابجا برقی سنسر لگے ہیں جو مصنوعی بازو پہننے والے معذور افراد کو ایک جانب چھونے کا احساس دلائیں گے تو دوسری جانب وہ درد بھی محسوس کر سکیں گے۔ اس جلد میں خاص کپڑا اور ربر لگایا گیا ہے جس میں الیکٹرانک سنسر سموئے گئے ہیں۔ مصنوعی جلد ٹی ای این ایس (ٹرانس کیوٹینس الیکٹرک نرو سیمولیشن) طریقے کے ذریعے پہننے والے کو کئی طرح کے ایسے احساسات دیتی ہے جو اصل جلد والے ہاتھوں سے ہی ممکن ہیں۔ آسیبی عضو یا فینٹم لمب ایک طرح کا احساس ہے اور یہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جن کے ہاتھ یا پائوں کٹ چکے ہوں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے ان کے ہاتھ اور پیر موجود ہیں۔ ماہرین نے کئی گھنٹوں تک ای ای جی لے کر کہا ہے کہ شاید فینٹم لمب کا احساس واقعی موجود ہو اور اسی بنیاد پر یہ برقی جلد بنائی گئی ہے۔ ماہرین نے اپنے ریسرچ پیپر میں لکھا ہے کہ عضو سے محروم ہونے والے کئی افراد اپنے کٹے ہوئے اعضا پر دبائو اور حس محسوس کرتے ہیں جن میں کچھ برقی سرسراہٹ بھی ہوتی ہے۔ بسا اوقات یہ لوگ قابل برداشت درد بھی محسوس کرتے ہیں۔ اس جلد کے ذریعے پہننے والا کسی خاص انگلی کو چھونے کا احساس کر سکتا ہے۔ اس تحقیق کے مرکزی سائنس دان پروفیسر نتیش ٹھاکر کہتے ہیں کہ پہلی مرتبہ کسی معذور شخص کو مصنوعی جلد کے ذریعے چھونے کا اعلیٰ احساس دینا ممکن ہوا ، جو عین اصل انسانی ہاتھ جیسا احساس جگاتا ہے۔ اس پر کام کرنے والے ایک اور بائیو میڈیکل طالبعلم لیوک اوسبرن نے بتایا کہ برقی جلد بازار میں دستیاب کئی طرح کے مصنوعی بازوئوں میں بآسانی فٹ ہوجاتی ہے۔ اسے پہن کر ہاتھ پائوں سے محروم افراد کانٹا چبھنے کو بھی محسوس کر سکتے ہیں، جب یہ جلد ایک مصنوعی بازو والے رضاکار کو لگائی گئی تو اس نے کہا کہ میرے بے جان ہاتھ میں اب زندگی پیدا ہوچکی ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے درجہ حرارت نوٹ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟