مصر، اخوان المسلون کے دھرنے میں شرکت،75 افراد کو سزائے موت

 مصر کی عدالت نے اخوان المسلون کے دھرنے میں شرکت پر 739 ملزمان کو مختلف سزائیں دی ہیں جن میں سے 75 افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر میں 739 افراد کو سزائیں سنادی گئی ہیں جنہوں نے 2013 میں صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد اخوان المسلمون کے دھرنے میں شرکت کی تھی۔ فوجداری عدالت نے 75 افراد کو سزائے موت، 47 افراد کو عمر قید جب کہ باقی ملزمان کو قید اور جرمانے کی مختلف سزائیں سنائیں۔ ان ملزمان پر ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے ، سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے۔ جن افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے ان میں اخوان المسلمون کے معروف قائدین اعصام العریان ، محمد بلتاجی اور معروف اسلامی مبلغ صفوت حجازی بھی شامل ہیں۔ عمر قید کی سزا پانے والے رہنمائوں میں اخوان المسلون کے سربراہ محمد بدیع بھی شامل ہیں جب کہ سابق صدر مرسی کے بیٹے اسامہ کو دس سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ ایک صحافی محمود ابوزید المعروف شوقان کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی کیونکہ وہ احتجاج کی کوریج کررہے تھے۔ انھیں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے سال کے عالمی آزادی انعام سے بھی نوازا تھا۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان سزائوں کو انتہائی غیر منصفانہ اور مصری آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھی مقدمات اور سزائوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصری سکیورٹی فورسز نے اپنے خلاف احتجاج کرنے والے کم از کم 817 افراد کو ہلاک کیا جو انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟