08 اپریل 2020
تازہ ترین
 مشرق وسطیٰ کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں، اردگان

 مشرق وسطیٰ کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہیں، اردگان

 ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ہم مشرق وسطیٰ کی زمینی سالمیت کا احترام کرتے ہیں۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات انہوںنے استنبول اتاترک ایئر پورٹ سے تنزانیہ اور مڈغاسکر  پر مشتمل  مشرقی افریقہ کے دورے  کے پہلے مرحلے میں تنزانیہ کے دارالحکومت دارالسلام  روانگی سے قبل صحافیوں کے ساتھ  گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہاں اپنے خطاب میں افریقی ممالک میں فیتوکی کارروائیوں  کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تنزانیہ، موزمبیق اور دیگر افریقی ممالک میں فیتو کی بھاری سرگرمیوں کے بارے میں حکومتی سربراہان کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے  صدارتی فرائض کا آغاز کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے صدر اردگان نے کہا کہ ٹرمپ متعدد بیانات جاری کر رہے ہیں اور ہم ان بیانات کو دیکھ اور سن رہے ہیں۔ اس وقت ہماری سوچ   پلوں، ریلوے لائنوں اور اس سے بھی بڑھ کر  مشرق وسطی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو سوال ابھر رہا ہے وہ یہ کہ ٹرمپ کا مشرق وسطی کے بارے میں رویہ کیا ہوگا، کیونکہ اس وقت مشرق وسطی ایک بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔ ہمارے کانوں تک مشرق وسطیٰ کے بارے میں انتہائی بے اطمینان کرنے والی بعض افواہیں پہنچ رہی ہیں لہٰذا ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی حیثیت سے ہم مشرق وسطی کی زمینی سالمیت کا احترام کرتے ہیں ، ٹکڑوں میں تقسیم مشرق وسطیٰ  کی  ہم کوئی سوچ نہیں رکھتے اور مشرق وسطی کے موضوع پر ہم ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ ترکی کے مشرق وسطی کے سب سے مضبوط اور حالات کا تعین کرنے والا ملک ہونے کا ذکر کرتے ہوئے  صدر اردگان نے  کہا کہ وہ جن کا مشرق وسطیٰ کے ساتھ دوردورکا کوئی تعلق نہیں ہے وہ اٹھ کر خطے کے بارے میں ایک تاریخی غلطی کا ارتکاب کریں اور اسکے بارے میں فیصلہ کریں تو یہ نہ تو ہماری دنیا کے حوالے سے اچھا ہو گا اور نہ ہی انسانیت کے حوالے سے۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟