15 نومبر 2018
تازہ ترین
مسنگ پرسنز کے معاملہ کو سیاسی بنایا گیا،چیئرمین نیب

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال  نے کہا  ہے کہ لاپتہ افراد کے معاملے کو سیاسی بنایا گیا تاہم کسی حکومت نے سنجیدگی نہیں دکھائی۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ کمیشن نے 153 افراد کے خلاف کارروائی کی ہے جب کہ جولائی 2018 تک 3 ہزار 4 سو 62 لوگ لاپتہ ہیں، ایجنسیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کا اختیار ہمارے پاس نہیں۔جسٹس رجاوید اقبال نے کہا کہ 200 سے زائد کیسز میں دفاعی اداروں نے بھی اپنے لوگوں کے خلاف کارروائی کی، ایجنسیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی وزارت دفاع کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی شخصیت کے 2 بیٹے لاپتہ ہوئے تو کہا گیا یہ مسنگ پرسنز ہیں، 3 ماہ بعد معلوم ہوا کہ وہ لوگ اپنی مرضی سے جہاد کے لیے افغانستان گئے ہیں۔مسنگ پرسنز کے معاملہ کو سیاسی بنایا گیا تاہم کسی حکومت نے سنجیدگی نہیں دکھائی، سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ سندھ حکومت نے مسنگ پرسنز کمیشن کے دفتر کو گرانے کے لیے بلڈوزر بھیج دیا تھا، میں چاہتا ہوں مسنگ پرسنز کا کیس اب کوئی اور دیکھے کیونکہ نیب میں بہت کام ہے، مسنگ پرسنز کے حوالے سے سب سے اہم کردار پارلیمنٹ کا ہے جب کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ شائع ہوجاتی تو بڑی چیزیں واضح ہوجاتیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟