21 ستمبر 2018
تازہ ترین
مسلح افراد کی فائرنگ سے فرنٹیئر کور کے تین اہلکار ہلاک

یہ واقعہ کوئٹہ میں سبزل روڈ کے علاقے عبد اللہ جان چوک پر پیش آیا۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ذرائع کے مطابق اس علاقے میں ایف سی کے اہلکار پیدل معمول کی گشت پر تھے کہ وہاں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔

اس حملے کے نتیجے میں کم ازکم دو ایف سی کے اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

حملے میں ایف سی کا ایک اہلکار شدید زخمی بھی ہوا جنھیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

تاہم بعد میں ڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ نے جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے زخمی ہونے والے تیسرے اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق بھی کر دی۔

حملہ آور بعد میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جن کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

ایک اور واقعے میں بلوچستان کے دو اضلاع سبی اور کوہلو کے سرحدی علاقے سے چار مزدوروں کو اغوا کیا گیا ہے۔

کوہلو میں انتظامیہ کے ذرائع نے ان افراد کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ سبی کے علاقے تلی تنگی میں پیش آیا۔

ذرائع کے مطابق یہ چاروں افراد اس علاقے میں ایک تعمیراتی منصوبے پر کام کررہے تھے جہاں سے ان کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

ان مزدوروں کو اغوا کرنے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے۔

تنظیم کی جانب سے اس علاقے میں ایک ٹیوب ویل کی مشینری کو بھی دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے علاوہ سکیورٹی فورسز پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا تاہم سکیورٹی فورسز پر حملوں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟