16 نومبر 2018
مستقبل نائٹ کرکٹ اور گلابی گیند کا ہے

جمعرات کو جب لاکھوں پاکستانی یہ میچ دبئی سے براہ راست ٹیلی ویژن پر دیکھ رہے ہوں گے تو ان میں سیالکوٹ کی کھیلوں کا سامان بنانے والی فیکٹریوں کے مالکان بھی ہوں اور ہو سکتا ہے کہ اس میچ میں جو گلابی گیند استعمال ہو وہ سیالکوٹ کی ہی کسی فیکٹری کی بنی ہوئی ہو۔

بین الاقوامی کرکٹ کے منتظمین سمجھتے ہیں کہ ٹیسٹ میچوں میں گلابی گیند کے استعمال سے وہ پانچ روزہ میچوں کو زیادہ پر کشش بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یوں وہ روایتی ٹیسٹ کرکٹ کو گھسیٹ کر اکیسویں صدی میں لے آئیں گے۔

اس تبدیلی کی روشنی میں پاکستان کی کھیلوں کے سامان کی صنعت بھی خود کو تبدیل کر رہی ہے تا کہ وہ نئی گلابی گیند کے میدان میں بھی کسی ملک سے پیچھے نہ رہے۔

خاور انور خواجہ کہتے ہیں کہ ' ہم ہر سال تقریباً 15 سے 20 ہزار گلابی گیندیوں بنا رہے ہیں اور گلابی گیندوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔'

خاور انور خواجہ 'گریز آف کیمبرج' کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور وہ سنہ 1953 سے کرکٹ کی گیندیں بنا رہے ہیں۔

جب گزشتہ سال ایڈلیڈ کے میدان میں میزبان آسٹریلیا اور مہمان نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ میں پہلی مرتبہ گلابی گیند استعمال کی گئی تو لوگوں کی رائے ملی جلی تھی۔

لیکن بین الاقوامی کرکٹ کے افسران اپنے اس ارادے پر قائم ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کروائیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ ٹیسٹ میچوں میں شائقین کی گرتی ہوئی حاضری کے رجحان کو بدلنے کے لیے ڈے نائٹ میچ کارگر ثابت ہوں گے۔

 

بین الاقوامی کرکٹ کی گورننگ باڈی کے افسران کئی سالوں سے ڈے نائٹ میچوں کے لیے مختلف رنگوں کی گیندوں پر غور کرتے رہے اور گورننگ باڈی گلابی گیند پر متفق ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریک آسمان کے پس منظر اور کھلاڑیوں کے سفید کپڑوں کے درمیان روشن دکھائی دیتا ہے۔

جہاں تک سیالکوٹ کا تعلق ہے تو یہاں کی دو بڑے کارخانے اور کئی چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں گلابی گیندیں بنانے میں مگن ہیں۔

رنگ نیا لیکن انداز پرانا

جب میں شیشے کی دوسری جانب خاور خواجہ کی فیکٹری کے کاریگروں کو ہاتھ سے گیندوں کی سلائی کرتا دیکھ رہا تھا تو انھوں نے مجھے فخر سے بتایا کہ 'گزشتہ سال ہم نے مختلف رنگوں کے تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار گیندیوں بنائیں تھیں، لیکن ہماری گیندوں کی مانگ دن بدن بڑھ رہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم اس سال کم از کم ایک لاکھ 50 ہزار کرکٹ کی گیندیں بنائیں گے۔'

ٹیسٹ میچ کرکٹ کی مختلف اقسام میں سے سب سے زیادہ وقت لیتا ہے اور پانچ دن کے کھیل کے بعد بھی ٹسیٹس میچ بغیر ہار جیت کے ختم ہو سکتا ہے۔

چائے اور کھانے کے وقفوں کے ساتھ ٹیسٹ میچ ہمیں اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب لوگوں کے پاس وقت ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے مصروف دور میں ٹی ٹؤنٹی میچ زیادہ مقبول ہو گئے ہیں کیونکہ ان میچوں کا دورانیہ کم ہوتا ہے اور شائقین کو تیز رفتار اور جدید کھیل دیکھنے کو ملتا ہے۔

ٹی ٹؤنٹی میچ نہ صرف تین گھنٹے کا ہوتا ہے بلکہ اس تیز رفتار میچ کے دوران کھلاڑیوں کے رنگین کپڑے، میدان میں موجود فنکاروں کے کھیل تماشے، بلند آواز موسیقی اور ہر چوکے چھکے پر چیئر لیڈرز کا ڈانس، ان میچوں کی رونق کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟