12 نومبر 2018
  مریخ پر کیوروسٹی کے دو ہزار دن مکمل

مریخ کی سائنس لیبارٹری کے نام سے معروف ناسا کا کیوروسٹی روور کو مریخ پر دو ہزار دن مکمل ہو گئے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کیوروسٹی روور اس سرخ سیارے پر موجود ایک خشک جھیل کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس دوران روبوٹ نے کئی اہم مشاہدے کئے ہیں۔ ان میں سے کچھ کیوروسٹی سائنس ٹیم نے منتخب کئے ہیں۔خلا سے لی گئی تصاویر میں سے کئی انتہائی دلکش ترین اور ڈرامائی خود زمین کی ہیں۔ مگر کیوروسٹی روور پر ماسٹ کیم کی اس تصویر میں رات کے وقت زمین ایک دھندلے نکتے کی طرح نظر آ رہی ہے۔ دنیا بھر کے سائنس دان ہر روز کیوروسٹی کے ذریعے دس کروز میل دور مریخ کا جائزہ لیتے ہیں۔کیوروسٹی نے پہلی تصویر پانچ اگست 2012 میں مریخ پر اترنے کے پندرہ منٹ بعد ہی بھیج دی تھی۔ جب یہ تصویر ملی تو سائنسدانوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ مشن کامیاب رہے گا۔جب سائنسدانوں نے کیوروسٹی روور کو چلانا شروع کیا تو یہ پتھر راستے میں نظر آئے۔ ان کی گول شکل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی قدیمی اور کم گہرے دریا کی تہہ میں بنے جو چار ارب سال پرانے بلند پہاڑوں سے بہتا تھا۔ مریخ کی اس سوکھی جھیل میں ملنے والے ان پتھروں کی تصاویر دیکھ کر سائنس دان دوبارہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ مریخ کی یہ چٹانیں اور پرتیں کس طرح وجود میں آئیں۔وقت کے ساتھ ساتھ کیوروسٹی روور نے سیلفی لینے میں مہارت حاصل کر لی یہ سیلفیاں صرف دکھانے کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان سے ٹیم کو پورے مشن میں روور کی مجموعی حالت سے آگاہ کرتی رہتی ہیں۔  


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟