مریخ پر زیر زمین آبی نظام کا سراغ

مقامی اتریخت یونیورسٹی کے شعبہ فلکیات کے پروفیسر فرانسسکو سالپسے نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اور انکے ساتھی سائنسدانوں نے مارس ایکسپریس آربیٹر نامی خلائی جہاز میں موجود کیمرے سے مریخ پر زمانہ قدیم کے زیر زمین آبی نظام کا سراغ لگالیا ، جو ایک بہت بڑی دریافت ہے اور جس سے مریخ کے مشاہدے اور مطالعے میں بڑی پیشرفت ہوگی۔ اس مشن پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ آربیٹر کیمرے سے اتاری جانے والی تصاویر کے تجزیے کے بعد انہیں مریخ پر نہروں ، وادیوں اور ٹیڑھی میڑھی آبشاروں اور پنکھے کی شکل کے آبی ذخائر کے حصے بھی نظر آتے ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ سرخ سیارے کی 5مختلف جگہوں پر کاربونیٹ سیلیکٹ اور مٹی کی تہوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ واضح ہو کہ یہ پہلی تحقیق ہے جسے مریخ کے زیر زمین حصے میں موجود زمانہ قدیم کے آبی نظام کا جغرافیائی ثبوت ملتا ہے۔ پروفیسر اور مصنف فرانسسکو  نے کہا کہ اب انکی تحقیق پر اچھی خاصی علمی بحث کی ضرورت ہے تاکہ مریخ کے زیر زمین آبی ذخائر کی قطیعت کا اندازہ لگایا جاسکے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟