19 جنوری 2019
تازہ ترین
قیلولہ یادداشت کو 5 گنا بہتر بنانے میں موثر

امریکہ کی سارلینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو 45 منٹ تک کی نیند یا قیلولہ معلومات کا ذخیرہ ذہن میں برقرار رکھنے اور اسے دوبارہ یاد کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کے دوران دماغی سرگرمیاں نئی معلومات کو محفوظ رکھنے کیلئے اہمیت رکھتی ہیں اور صرف 45 منٹ کا قیلولہ یادداشت کو پانچ گنا تک بہتر بناتا ہے۔ اچھی نیند بھی صحت مند ذہن اور یادداشت کیلئے ضروری عنصر ہے، جس سے ذہن کو نئی معلومات کا تجزیہ کرنے کا وقت ملتا ہے اور یادداشت مستحکم ہوتی ہے۔ امریکی یونیورسٹی نارتھ ویسٹرن کی تحقیق کے مطابق گہری سانس لینا بھی جسم پر جادوئی اثرات مرتب کرتا ہے اور ایک دفعہ ہی ناک سے سانس لینے سے دماغ مضبوط جبکہ یادداشت بہتر ہوتی ہے۔ تحقیق کے دوران رضاکاروں پر کئے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ جو لوگ گہری سانس لینے کو عادت بناتے ہیں ان کیلئے چیزوں کو یاد رکھنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ سانس لینے کے دوران دماغ کے حصوں ایمی گدالا اور ہپو کمپس پر مختلف اور ڈرامائی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟