23 ستمبر 2018
تازہ ترین
قدرتی آفات میں مدد کرنے والے ننھے روبوٹ

 چند ملی میٹر سے لے کر چند سینٹی میٹر کے چھوٹے روبوٹ انسانوں کی بڑی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ حادثات اور آفات کے بعد درزوں اور سوراخوں سے گزر کر زندہ انسانوں کی خبر دے کر ان کی جان بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں امریکا میں ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی نے سینٹٰی میٹر پیمانے پر روبوٹ بنانے کا ایک منصوبہ شروع کیا۔ یہ روبوٹس قدرتی آفات میں انسانوں کے اہم مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ بڑے روبوٹ اس وقت جنگوں سے لے کر ریستورانوں میں بھی انقلاب لا چکے ہیں لیکن قدرتی اور انسانی سانحات میں اب بھی ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی بنا پر اب بہت چھوٹے روبوٹس پر کام ہورہا ہے۔ اس طرح کیڑے مکوڑوں کی جسامت کے بہت سارے چھوٹے روبوٹس کی فوج سے بہت سے کام لئے جاسکتے ہیں۔ ایسے روبوٹ بہت سادہ اور کم خرچ ہوں گے اور ساتھ ہی تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے ان کی تیاری اب قدرے آسان ہوسکتی ہے۔ تاہم مائیکرو روبوٹس کو بجلی کی مسلسل فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی لئے ڈارپا نے شارٹ رینج انڈی پینڈنٹ مائیکرو روبوٹک پلیٹ فارمز (شرمپ) نامی کثیرالمقاصد مائیکرو اور ملی روبوٹس بنانے کا اعلان کیا ۔ اس پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس میں توانائی و دیگر مسائل حل کئے جائیں گے۔ نئے روبوٹس میں ایکچوایٹرز کو بہتر بنا کر وزن اٹھانے اور مضبوطی کے معیار کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ تمام روبوٹس کو امریکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی ایس ٹی) کے روبوٹ ٹیسٹنگ سینٹر میں آزمایا جائےگا۔ اس طرح ان میں توانائی، حرکات و سکنات، وزن اٹھانے کی صلاحیت، رفتار اور اونچے نیچے راستے پر چلنے کی صلاحیت کی سخت آزمائش کی جائے گی۔ یہ روبوٹ خطرناک ماحول میں بھی تحقیق کرنے اور خطرے کی نشاندہی کا کام کر سکیں گے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟