16 نومبر 2018
فرانس میں جیل سے مجرم کا فلمی انداز میں فرار

 فرانس میں جیل سے ایک مجرم کا فلمی انداز میں فرار ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں گینگسٹر ریڈوئن فائد کے 2 مسلح ساتھیوں نے پہلے ہیلی کاپٹر ہائی جیک کیا، پھر سموک بم اور گرائنڈر کی مدد سے جیل کے اندر جا گھسے اور ساتھی کو فرار کرا لیا،کمانڈو طرز کی اس کارروائی میں 10 منٹ سے بھی کم لگے۔ خبر رساں ادارے کے  مطابق جیل سے سزا یافتہ 46 سالہ ریڈوئن فائد کے 2 ساتھی سموک بموں اور گرینڈر کی مدد سے  پیرس کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع جیل کے اندر جا پہنچے، اُس وقت ڈیوٹی پر موجود وارڈن مسلح نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق وارڈنز نے بھاگ کر جان بچائی اور الارم بجائے، تاہم ملزمان مجرم ریڈوئن کو لے کر ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر فرار ہو گئے۔ کارروائی میں استعمال ہونے والا ہیلی کاپٹر ایک فلائٹ انسٹرکٹر سے ہائی جیک کیا گیا تھا، جس نے جیل کی حدود میں صبح 11 بجکر 15 منٹ پر لینڈ کیا، جو بعدازاں پیرس کے شمال مشرقی علاقے میں ایک جگہ پر موجود پایا گیا۔ پولیس کے مطابق ہیلی کاپٹر کا پائلٹ ایک فلائٹ انسٹرکٹر تھا جو اپنے ایک سٹوڈنٹ کا انتظار کر رہا تھا کہ مجرم کے ساتھیوں نے اسے یرغمال بنایا اور اسے ہیلی کاپٹر کو جیل لے جانے پر مجبور کیا۔ یہ  واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مجرم ریڈوئن فائد ملاقاتی کمرے میں اپنے بھائی سے بات کر رہا تھا۔ پولیس نے مجرم کے بھائی کو حراست میں لے لیا، جبکہ ملزموں کی تلاش بھی جاری ہے۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ 29 سو پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو متحرک کیا جاچکا ہے جو ملزمان کو تلاش کر رہے ہیں۔ جیل کے ایک عہدیدار مارشل ڈیلابروئے نے بتایا کہ ملزمان کو اس ساری کارروائی میں محض 10 منٹ لگے اور جس جگہ ہیلی کاپٹر نے لینڈ کیا، یہ وہ واحد جگہ تھی جہاں اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم نہیں تھا، کیونکہ اس جگہ کو قیدی کبھی استعمال نہیں کرتے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے بظاہر ایک کار بھی استعمال کی، جو بعدازاں ایک شاپنگ مال کے کار پارکنگ ایریا میں ملی، جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ فرانس کے وزیر انصاف نکولے بیلونیٹ کے مطابق ، 'ان کمانڈوز نے علاقے کے سروے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا ہوگا، لیکن اس حوالے سے انکوائری کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکے گا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟