21 جولائی 2019
تازہ ترین
فائیو جی ٹیکنالوجی کے مضر اثرات

فائیو جی ٹیکنالوجی کے مضر اثرات

موبائل فون نیٹ ورک کی پانچویں نسل یعنی فائیو جی کی آمد آمد ہے جس سے صارفین ہائی فریکوئنسی اور بینڈ ویتھ کے ذریعے تیز ترین انٹرنیٹ سے لطف اندوز ہوں گے اور  ڈیٹا ڈائون لوڈ اور اپ لوڈنگ کی رفتار فی سیکنڈ 10 گیگا بائٹ تک ہوگی تاہم یہ ٹیکنالوجی اپنے مضر اثرات کے باعث احتیاطوں کی متقاضی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فائیو جی جہاں تیز ترین نیٹ فراہم کرے گی وہیں اس کے مضر اثرات بھی ہولناک ہوسکتے ہیں کیونکہ اب تک کے جی نیٹس میں 7 سو میگا ہرٹس سے 6 سو گیگا ہرٹس کی فریکوئنسی استعمال ہوتی ہے، لیکن فائیو جی میں یہ فریکوئنسی 28 سے 100 گیگا ہرٹس کے درمیان ہوگی اور یہ فریکوئنسی انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتی ہیں۔ انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا استعمال اور بے لگام فریکوئنسی پر تشویش کے شکار سائنس دانوں نے متنبہ کیا ہے کہ کسی ٹیکنالوجی کے پھیلئاو سے اس کے انسانی صحت اور ماحول پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد اجازت دینی چاہئے۔ حال ہی میں دنیا بھر سے 250 سائنسدانوں نے اقوام متحدہ میں ایک پٹیشن دائر کی ، جس میں سمارٹ فون سے نکلنے والی شعاعوں سے کینسر کا مرض لاحق ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی اس پٹیشن پر عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی دستخط کئے تھے۔ ماہرین نے مزید خبردار کیا ہے سمارٹ فون یا پھر ریڈیو انٹینا سے نکلنے والی شعاعیں برقی مقناطیسی میدان پیدا کرتی ہیں جو انسانی صحت اور ماحول کے لئے نہایت مضر ثابت ہوسکتی ہے جن میں کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات، سیلولر سٹریس، خطرناک مالیکیولز کا اخراج، جینیاتی نقصانات، تولیدی نظام کی فعالیت میں تبدیلیاں، سیکھنے اور یادداشت کرنے کے عمل میں کمزروی شامل ہیں۔ ماہرین  ے مطابق یہ فریکوئنسی انسان کے اعصابی نظام پر اثر انداز ہوں گی، جس سے حواس خمسہ میں خرابی کا اندیشہ ہے اور یہ انسانی رویوں میں تبدیلی کا شاخسانہ بھی ثابت ہوسکتی ہیں،  جیسے جھنجھلاہٹ، پریشانی یا غصے میں اضافہ ہونا ہے۔ ان میں سے کئی امراض فور جی کے ساتھ ہی نمودار ہوچکے ہیں تو فائیوجی میں ان کی ہلاکت خیزی اور زیادہ ہوگی ،کیونکہ فور جی، تھری جی سے 10 گناہ تیز تھا تو فائیو جی فور جی سے ایک ہزار گنا تیزی سے کام کرے گا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟