19 نومبر 2018
غریب ترین بچے، اعلیٰ ترین تعلیم

اس بورڈنگ سکول کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں ہر سال 200 نشستوں کے لیے ڈھائی لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔

یہ سکول شِو نادر فاؤنڈیشن نے قائم کیا تھا جو ایسی تعلیم مکمل طور پر مفت فراہم کرتا ہے جو عام طور پر صرف انتہائی امیر خاندان ہی برداشت کر سکتے ہیں۔

روشنی نادر ملہوترا فاؤنڈیشن کی ٹرسٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ سکول کا تصور انڈیا کے ان نجی سکولوں سے لیا گیا ہے جن سے نکل کر طلبہ اعلیٰ یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے اور پھر اونچے عہدوں پر فائز ہونے کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔

لیکن ودیا گیان سکول صرف انتہائی ذہین اور انتہائی غریب طلبہ کو داخلے دیتا ہے۔ سکول میں صرف انھی خاندانوں کے بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے جن کی سالانہ آمدن سوا لاکھ انڈین روپوں سے کم ہو۔ اور سکول اس بات کی جانچ پڑتال بھی کرتا ہے کہ کہیں امیر خاندانوں کے بچے تو داخلے کی کوشش نہیں کر رہے۔

روشنی ملہوترا کہتی ہیں: 'انڈیا کا بڑا حصہ دیہی ہے، اور آبادی کے بڑے حصے کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ ان کی رسائی اچھی یونیورسٹیوں تک نہیں ہو پاتی۔'

'ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا ہم داخلے کا کوئی ایسا نظام وضع کر سکتے ہیں جو خالصتاً میرٹ پر مبنی ہو۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟