22 اگست 2019
تازہ ترین
عمر بھرکپتان کوئی نہیں رہتا، سرفراز

عمر بھرکپتان کوئی نہیں رہتا، سرفراز

سرفراز احمد نے کہا ہے کہ کبھی کپتانی چھن جانے کا خوف محسوس نہیں کیا اور کوئی عمر بھر کیلئے اس منصب پر نہیں رہتا۔ قومی کپتان سرفراز احمد نے  ایک انٹرویو میں کہا  ہے کہ احسان مانی نے چیئرمین پی سی بی کا چارج سنبھالنے کے بعد مجھے بطور کپتان اور کھلاڑی بڑا اعتماد دیا۔ قیادت کے حوالے سے میڈیا میں باتیں آئیں لیکن میرے ذہن میں کوئی شکوک نہیں تھے، بہرحال عوام کے سامنے بھرپور سپورٹ کرنے پر چیئرمین بورڈ اور دیگر عہدیداروں کا شکر گزار ہوں، اس سے میرا حوصلہ کئی گناہ بڑھ گیا جس کی جھلک ورلڈکپ کے دوران پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں بھی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک کو قائم مقام کپتان بنائے جانے پر پھیلنے والی افواہوں سے میں قطعی طور پر پریشان نہیں ہوا، آل رائونڈر کو قیادت سپرد کرنے میں میری مشاورت بھی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر، منیجر طلعت علی اور چیف سلیکٹر انضمام الحق سے بات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کسے کپتان ہونا چاہئے، میں نے کہا کہ شعیب بھائی ہی ٹھیک ہیں، میں نے کبھی کوئی خوف محسوس کیا نہ اس کی ضرورت ہے، کپتانی اللہ کی دین ہے، کوئی بھی زندگی بھر کیلئے اس پوسٹ پر نہیں ہوتا، کئی کپتان بعد میں بطور کھلاڑی بھی کھیلتے ہیں، مجھے کسی جونیئر یا سینئر کے جگہ لینے کا خوف نہیں تھا، اس وقت شعیب ملک ہی بہترین انتخاب تھے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک کے رویے سے میں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ وہ قومی ٹیم کی قیادت چاہتے ہیں، میں ان کی کپتانی میں کھیل چکا،وہ ایک ٹیم مین اور مجھے بھی مکمل سپورٹ کرتے ہیں، مجھے محمد حفیظ کی بھی بھرپور معاونت حاصل ہوتی ہے، میں دونوں سینئرز سے خاص طور پر مشاورت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ  میری تمام تر توجہ پی ایس ایل اور ورلڈ کپ پر مرکوز ہے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ سے سیریز اور میگا ایونٹ جیسے مشکل چیلنجز کیلئے جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بائولنگ بہترین ہے، کبھی مشکل وقت آجاتا ہے کہ کارکردگی اچھی نہیں رہتی، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کھلاڑی چار، پانچ ماہ سے مسلسل کھیل رہے ہیں، مصروفیات زیادہ ہونے کی وجہ سے تھوڑی تھکاوٹ کا شکار ہو گئے، ون ڈے میں حسن علی نے اچھی بائولنگ کی لیکن وکٹیں نہیں لے پائے، روٹیشن پالیسی کے تحت ہم نے شاہین شاہ آفریدی اور محمد عامر کو آرام دیا، فخر زمان ٹیسٹ میچز میں اچھا نہیں کھیل سکے، ون ڈے میں آغاز اچھا لیا مگر بدقسمتی سے اسے بڑے سکور میں تبدیل نہیں کر پائے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑی اب بھی میری ڈانٹ ڈپٹ کا برا نہیں مناتے، تمام کھلاڑی سمجھتے ہیں کہ میں زیادہ کیوں بولتا ہوں، اگر کچھ کہتا ہوں تو پرفارمنس بھی انہی کی بہتر ہوتی ہے، دنیا اور رینکنگ میں نام تو ان کا ہی اوپر جاتا ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟