عمران خان اورجہانگیرنااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ  

سپریم کورٹ نے عمران خان نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ امید نہ رکھیں کہ فیصلہ کل ہی سنا دیا جائے گا، مجموعی تصویر سامنے رکھ کر دیکھنا ہے کہ بددیانتی ہوئی یا نہیں ہم سچ کی تلاش کیلئے ہی یہ سماعت کر رہے ہیں، سچ بولنے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو یاد نہیں رکھنا پڑتا کہ پہلے کیا کہا تھا،  عمران خان نے لندن فلیٹ ظاہر کیا ، آف شور کمپنی ظاہر نہیں کی، پانامہ کیس میں تنخواہ نہ بتانا غلط بیانی تھی یا غلطی؟ جسٹس عمر عطائ بندیال نے کہا کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے  اور غلط بتانے میں فرق ہوتا ہے، عمران خان نے یورو اکائونٹ کی تفصیلات فراہم نہیں کیں،  ایمانداری اور بے ایمانی میں فرق عدالت نے کرنا ہے، حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے سماعت کے دوران  اٹھارہ مرتبہ موقف بدلا اور اٹھارہ سچ بولے، اثاثے ظاہر نہ کرنے پر عدالت عمران خان کو نااہل قرار دے۔   عمران خان نااہلی کیس کی سماعت سپریم کورٹ  میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان نے تحریری جواب میں آج تک کوئی یو ٹرن نہیں لیا، عمران خان  کے کسی بیان میں تضاد نہیں ہے، لندن فلیٹ کی منی ٹریل عدالت کو پیش کردی لندن فلیٹ  کو ایمنسٹی سکیم میں ظاہر کیا گیا تھا، آف شور کمپنی میں عمران خان ڈائریکٹر نہیں ہیں۔ چیف جسٹس  ثاقب نثار نے کہا کہ لندن فلیٹ ظاہر کیا گیا، آف شور کمپنی ظاہر نہیں کی گئی۔ وکیل  نعیم بخاری  نے کہا کہ عمران خان بینی فیشل مالک تھے اور نہ شیئر ہولڈر اس لئے ظاہر نہیں کی۔ چیف جسٹس نے کہا  یوں لگتا ہے کہ عمران خان کے بیانات میں تھوڑا تضاد ہے۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ جتنے کاغذات اکٹھے کر سکتے تھے، پیش کر دیئے ہیں 2002 کے کاغذات نامزدگی پر کسی نے اعتراض نہیں کیا تھا۔ چیف جسٹس  نے کہا کہ آپ کی نااہلی 2002 کے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی پر مانگی  گئی ہے۔ اس وقت ریٹرننگ افسر نے معاملہ نہیں دیکھا تھا کیا عدالت اب کاغذات نامزدگی کو نہیں دیکھ سکتی۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان سے اثاثے بتانے میں غلطی ہوسکتی ہے غلط بیانی نہیں۔ چیف  جسٹس نے سوال کیا کہ کاغذات نامزدگی میں تنخواہ نہ بتانا غلط بیانی ہے یا غلطی؟ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کو بیان میں تبدیلی کی  اجازت نہیں دی وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ  نیازی سروسز لمیٹڈ کے اکائونٹ میں ایک لاکھ پائونڈز رکھے گئے۔ جولائی 2007 میں عمران خان کے اکائونٹ میں 20ہزار یورو آئے۔ مارچ 2008 میں عمران خان  کے اکائونٹ میں 22ہزار یورو آئے یہ رقوم 2012 میں کیش کرائی گئیں۔ عمران خان  کی ریٹرن پر الیکشن کمیشن نے اعتراض نہیں کیا کچھ چھپایا  ہوتا تو ریٹرننگ افسر دستاویزات کو مسترد کر دیتا۔ پندرہ سال بعد یہ معاملہ اٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پانامہ کیس میں تنخواہ ظاہر نہ کرنا غلطی تھی یا غلط بیانی؟ نعیم بخاری نے جواب دیا کہ عوامی عہدے پر ہوتے ہوئے نواز شریف تنخواہ کے حق دار تھے 2002 کے معاملے  پر اب نااہلی نہیں ہوسکتی جسٹس عمر عطائ  بندیال نے کہا کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے اور غلط بتانے میں فرق ہوتا ہے نیازی سروسز کے یورو اکائونٹ کی تفصیلات 2008 سے فراہم کی گئیں۔ عمران خان نے یورو اکائونٹ کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔  نیازی سروسز کا یورو اکائونٹ کب کھولا گیا؟ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ 2006 میں لندن عدالت کے فیصلے کے بعد اکائونٹ کھولا گیا۔ اثاثے چھپانے اور غلطی میں فرق ہے عمران خان نے یورو اکائونٹ کب کتنی رقم سے کھولا؟ وکیل نعیم بخاری نے بتایا کہ یہ اکائونٹ تب کھولا گیا جب وہ  ایم این اے تھے۔ یورو اکائونٹ کی رقم عمران خان پاکستان لائے ایمانداری اور بے ایمانی میں عدالت نے فرق کرنا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اکرم شیخ صاحب آپ بھی نعیم بخاری کی طرح مختصر دلائل دیں۔  جسٹس عمر عطائ بندیال نے کہا کہ عدالت  اپنے سوالات میں حق اور سچ کا تعین کرتی ہے جیسے آپ کو تازے خیال آتے ہیں ممکن ہے عمران کو نئی باتیں یاد آتی ہوں۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ غلط بیانی کرنے والے کا حافظہ کمزور ہوتا ہے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سچ بولنے والوں کو اپنی بات یاد نہیں رکھنی پڑتی۔  وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ 1997 اور 2002 کے انتخابات میں عمران خان نے  جمائما کے اثاثے ظاہر نہیں کئے۔ وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ تحریری گزارشات سات روز میں عدالت کو پیش کردوں گا۔ وکلائ کے دلائل مکمل ہونے پر سپریم کورٹ نے عمران خان نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔  عدالت نے دونوں وکلائ کو ہدایت کی کہ  اگر ان کی کوئی قانونی گزارشات ہیں تو تحریری طور پر عدالت میں جمع کرائیں، جن کا جائزہ لیا جائے گا۔ علاوہ ازیں جہانگیر ترین نااہلی کیس میں بھی  سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاٴ سپریم کورٹ  کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جہانگیر ترین کے پہلے تحریری جواب اور ٹرسٹ ڈیڈ میں تضاد  ہےٴ جہانگیر ترین کے تحریری جواب پر افسوس ہوا ہےٴ جہانگیر ترین نے رقم براہ راست آف شور کمپنی کو بھیجیٴ کئی چیکس آف شور کمپنی کے نام نہیںٴ یہ کیسے ثابت ہوگا کہ جائیداد ٹرسٹ کی ملکیت ہےٴ جسٹس عمر عطائ بندیال نے کہا کہ جہانگیر ترین  کے موقف میں تضاد ہےٴ کاغذات نامزدگی میں کسی کو بینی فیشل نہیں بنایا گیا۔ منگل کو جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔  چیف جسٹس نے سوال کیا کہ لندن ہائیڈ ہائوس کا مالک کون ہے؟ جہانگیر ترین کے وککیل سکندر بشیر نے کہا کہ شائنی ویو کمپنی ہائیڈ ہائوس کی مالک ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ہائیڈ ہائوس کی رجسٹری کس کے نام ہے؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ لینڈ رجسٹری شائنی ویو کے نام پر ہے۔ 10مئی کو جائیداد شائنی ویو کمپنی نے خریدی۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جائیداد خریدنے کی ہدایت کس نے دی؟ ٹرسٹ کو پیسے جہانگیر ترین نے دیئے جہانگیر ترین نے قانونی آمدن سے رقم بھیجی۔  میرے موکل کے خلاف کوئی مواد نہیں ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ تمام منی ٹریل جہانگیر ترین نے بتائی ہے ٹرسٹ میں جہانگیر ترین تاحیات بینی فیشری ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے براہ راست رقم آف شور کمپنی کو بھیجی۔ جہانگیر ترین نے رقم ٹرسٹ کو نہیں بھیجی۔


عوامی سروے

سوال: متحدہ اورپی ایس پی کےاتحاد سے سندھ میں پی پی پی کی سیاست پرکیااثرات مرتب ہوتے؟