20 ستمبر 2018
عجلت میں کھانا موٹاپے کا باعث

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ آہستہ آہستہ اور اطمینان سے کھانا کھانے والے افراد موٹاپے سے دور رہتے ہیں جبکہ عجلت میں کھانا کھانے والے افراد موٹاپے کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف جاپان کے معروف جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کیا گیا ۔ پانچ برسوں پر مشتمل یہ تحقیق  59 ہزار 7 سو افراد پر کی گئی، جس کا مقصد کھانا کھانے کے انداز و عادات کا موٹاپے پر ہونے والے اثرات کا مشاہدہ کرنا تھا۔ تحقیق ذیابیطس کی قسم دوم  کے مرض میں مبتلا مریضوں پر کی گئی تھی، جس کے لئے مریضوں کو تین گروپوں میں تقسیم دیا گیا تھا۔ پہلے گروپ میں جلدی جلدی کھانا کھانے والے، دوسرے گروپ میں معمول کے انداز میں اور تیسرے گروپ میں آہستہ آہستہ کھانا کھانے والے مریضوں کو رکھا گیا تھا۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے مریضوں کے طرز زندگی، کھانے پینے کی عادات، دلچسپی کے امور، موسم اور دیگر بنیادی معلومات سے متعلق سات سوالات پوچھے، مریضوں کے جوابات سے موصول ہونے  والے نتائج کو مرتب کرنے کے دوران حیران کن بات سامنے آئی کہ  جلدی جلدی کھانا کھانے اور درست طریقے سے نوالے نہ چبانے والے مریضوں میں سے 45 فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہوگئے، جبکہ آہستہ آہستہ کھانا کھانے والے افراد کے وزن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور وہ نسبتاً چاق و چوبند بھی رہے۔ تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ آہستہ آہستہ کھانا کھانے والے افراد نہ صرف یہ کہ موٹاپے سے محفوظ رہے بلکہ مکمل اور پر سکون نیند بھی لیتے رہے اور نظام ہاضمہ سے جڑی بیماریوں سمیت ذیابیطس کی دیگر پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رہے۔ اس کے برعکس جلدی جلدی نوالے چبانے والے افراد سینے میں جلن اور معدے کی سوزش میں مبتلا ہوگئے اور ایسے مریضوں کا بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں نہیں رہا جس سے دیگر پیچیدگیوں مثلاً دل، گردے اور آنکھوں کے امراض کا احتمال بھی رہتا ہے۔ تحقیق کی بنیاد پر ماہرین نے ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کو وزن معتدل رکھنے کی تجویز دی، کیونکہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا فربہ افراد بلند فشار خون کا شکار ہو جاتے ہیں ، جس کے باعث دل اور گردے کی کارکردگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم کھانے کی عادات اور طریقے میں مثبت تبدیلی کے  ساتھ  کسرت، وقت پر دوائیں لینا، ڈپریشن سے دور رہنا اور اپنے معالج سے باقاعدہ چیک اپ کراتے رہنا بھی ضروری ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟