21 ستمبر 2018
تازہ ترین
صدارتی الیکشن میں شکست کی ذمہ دار پی پی پی ہوگی، اپوزیشن اتحاد

اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے میں ناکامی کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو قرار دے دیا۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں مشترکہ امیدوار مولانا فضل الرحمن کے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے گئے۔ اس موقع پر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔ کاغذات جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال، میر حاصل بزنجو، مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے میں ناکامی پر پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اپوزیشن کے لئے ہم سب مل بیٹھے تھے، پہلے مرحلہ آیا تو فیصلہ ہوا کہ وزیراعظم کا امیدوار ن  لیگ کا ہوگا، فیصلہ ہوا تھا کہ وزیراعظم کا امیدوار  ن لیگ، سپیکر پیپلز پارٹی اور ڈپٹی ایم ایم  سے ہوگا۔ حاصل بزنجو نے کہا کہ وزیراعظم کے لئے شہباز شریف کا نام بھی پیپلز پارٹی نے دیا تھا، شہباز شریف نے کہا کہ اگر چیئرمین سینیٹ لینا چاہتے ہیں تو تیار ہیں کیونکہ ہمارا مقصد الائنس رکھنا ہے ، لیکن پیپلزپارٹی نے جس طرح بیک آئوٹ کیا اس سے اتحاد کو دھچکا لگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی کوشش کریں گے کہ پیپلز پارٹی کی منتیں کریں، مولانا فضل الرحمان سے کہیں گے کہ وہ آصف زرداری کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ مشترکہ صدارتی امیدوار کے لئے پیپلز پارٹی سے معاملات طے نہیں ہو پائے، رات گئے تک بھی مشترکہ ا امیدوار کے لئے کوشش کی، امید کرتا ہوں پیپلز پارٹی اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہونے سے بچائے گی، پیپلز پارٹی نے پہلے کہا تھا تین امیدواروں کا پینل دیں گے، انہوں نے پینل کا نام نہیں دیا بلکہ اعتراز احسن پر ہی اڑے رہے۔  جے یو آئی ف کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مسلسل رابطوں کے باوجود پیپلز پارٹی اب تک اس اتحاد کا حصہ نہیں بنی، پیپلز پارٹی کے پاس جائیں گے اور درخواست کریں گے کہ وہ اپوزیشن کی تقسیم کا سبب نہ بنے، ہم جیتنے کی پوزیشن میں ہیں بشرط پیپلز پارٹی ساتھ دے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے صدارتی امیدوار کے لئے اعتزاز احسن کی بجائے مولانا فضل الرحمان کی حمایت کا اعلان کیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟