16 نومبر 2018
تازہ ترین
صارفین کے ڈیٹا کا غلط استعمال کرنیوالی ایپ معطل

 فیس بک نے اپنے 40لاکھ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کا غلط استعمال کرنے والی تھرڈ پارٹی ایپ مائی پرسنیلٹی کو معطل کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک کے پروڈکٹ پارٹنرشپ کے نائب صدر ائمی آرچی بونگ نے تھرڈ پارٹی کے طور پر فیس بک سے منسلک ایپ  مائی پرسنیلٹی اور دوسری سیکڑوں ایپس پر پابندی کا اعلان کیا۔ اس طرح اب تک ادارہ فیس بک 400ایپس پر پابندی لگا چکا ہے۔ فیس بک نیوز روم میں آرچی بونگ کی ایک تازہ پریس ریلیز میں کہا گیا  کہ ہماری جانب سے مذکورہ ایپ کا آڈٹ کرانے کی درخواست پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا ، جس کے بعد یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا، کیونکہ واضح ہوچکا ہے کہ اس ایپ نے مناسب تحفظ کا اہتمام کئے بغیر ہی محققین اور دیگر کمپنیوں کو فیس بک صارفین کا ذاتی ڈیٹا فراہم کیا ، جس کی فیس بک نے سختی سے ممانعت کر رکھی ہے۔ فیس بک نے اعلان کیا کہ ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال سے متاثر ہونے والوں کو نوٹیفکیشن کے ذریعے باقاعدہ آگاہ کیا جائے گا ، تاہم اس سے متاثرہ صارفین کے فرینڈز کا ذاتی ڈیٹا اور معلومات کے غلط استعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملا ، اس لئے متاثرہ صارفین کے فرینڈز کو اس معاملے پر کوئی نوٹیفکیشن نہیں دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کیمبرج اینالیٹکا سکینڈل سے 87ملین صارفین کے متاثر ہونے کے بعد فیس بک نے تھرڈ پارٹی ایپس کی جانچ پڑتال سخت کردی تھی اور اس سلسلے میں اب تک معیار پر نہ اترنے والی 400سے زائد ایپلیکیشنز کو معطل کیا جا چکا ہے۔ البتہ، بعض ٹیکنالوجی ماہرین فیس بک کے اس فیصلے کو پراسرار بھی کہہ رہے ہیں کیونکہ  مائی پرسنیلٹی ایپ، برطانیہ میں نفسیاتی تحقیق کے ایک ادارے نے تیار کرائی تھی، جس کا مقصد نفسیاتی تجزیئے کی غرض سے، سوال و جواب کے ذریعے صارفین سے معلومات جمع کرنا تھا۔ یہ خالصتاً ایک تحقیقی منصوبہ تھا جس کے تحت مائی پرسنیلٹی ایپ 2007سے 2012تک فعال رہی۔ تب سے اب تک یہ ایپ مکمل طور پر غیر فعال ہے۔ تاہم، گزشتہ دنوں یہ بات ضرور سامنے آئی تھی کہ کسی نامعلوم تحقیق کار نے  مائی پرسنیلٹی کا اچھا خاصا ڈیٹا  گٹ حب نامی ہوسٹنگ سروس کی ویب سائٹ پر شیئر کرا دیا تھا۔ یہاں عام طور پر کمپیوٹر کے ماہرین اور سافٹ ویئر انجینئر اپنے پروگرامز کا سورس کوڈ شیئر کراتے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟